اہم خبریں

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ملاقات سے روکنا سیاسی انتقام ہے، سینیٹر علی ظفر

پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفرali zafar کی اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ملاقات سے روکنا سیاسی انتقام ہے۔ حکومت کی پالیسی انسانی حقوق اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔قانون عام قیدی کو بھی اہل خانہ سے ملاقات کی مکمل اجازت دیتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی سے ناروا سلوک کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود سیاسی قیدیوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عوام بانی پی ٹی آئی کے خلاف حکومتی رویے اور سیاسی انتقام کو دیکھ رہی ہے۔
سیاسی معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت ناگزیر ہے۔ریاستی جبر اور قیمتی مشینری کے غلط استعمال سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کیلئے سیاسی ڈائیلاگ کے دروازے کھولنا ہوں گے۔
دہشتگردی اور خوف کے ماحول کی وجہ سے عوامی تحریکیں تاحال متحرک نہیں ہو سکیں۔ موجودہ سنگین حالات سے نمٹنے کیلئے ہمیں اپنی فرسودہ حکمت عملی تبدیل کرنی ہو گی۔ سیاسی بحران کے حل کیلئے صرف ایک طریقہ کار یا گروہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں، غیر قانونی طریقے سے اقتدار پر قابض ہے۔ حکومت مذاکرات کا صرف راگ الاپتی ہے لیکن عملی طور پر سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ سیاسی انتقام کا خاتمہ اور تشدد کی لہر روکنا ہی مذاکرات کی پہلی سیڑھی ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے خلاف انتقامی کارروائی بند کی جائے۔عدالتوں کو مکمل آزادی دی جائے اور قانون کو اپنا راستہ خود بنانے دیا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔
میری معلومات کے مطابق فی الوقت کوئی بھی پسِ پردہ بات چیت نہیں چل رہی۔ مذاکرات سے متعلق ہونے والی چہ مگوئیوں میں کوئی صداقت موجود نہیں ہے۔ اگر
کہیں کوئی گفتگو ہو رہی ہے تو اس کی فی الحال اطلاع نہیں۔

مولانا محمد ادریس کی شہادت کے بعد اہم ترین پیش رفت سامنے آگئی،جا نئے تفصیل
پاکستان کی موجودہ سنگین صورتحال میں تمام سیاسی و قانونی راستے اپنانا ناگزیر ہیں۔ پارلیمانی محاذ کے ساتھ ساتھ عوامی دباؤ اور قانونی جنگ بھی جاری رہے گی۔ ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔
سوشل میڈیا پر ہونے والی حالیہ تنقید میں کسی حد تک سچائی موجود ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے 5ماہ سے ملاقات نہ ہونا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔قیادت سے رابطے کی کمی کے باعث پارٹی کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔موجودہ حالات میں ہر شخص اپنی بساط کے مطابق پارٹی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
بانی تک رسائی نہ ہونے سے پارٹی فیصلوں میں بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔پی ٹی آئی کی تمام تر سیاسی حکمت عملی بانی چیئرمین سے مشاورت پر منحصر ہے۔بانی سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی صفوں میں کنفیوژن پیدا ہوئی۔
بانی پی ٹی آئی سے رسائی ختم ہونے سے پارٹی قیادت کو تنقید کا سامنا ہے۔بانی کے بغیر پارٹی کی کسی بھی حکمت عملی میں وہ وزن نظر نہیں آتا۔ملاقات ہوتے ہی پارٹی کے تمام تنظیمی اور سیاسی مسائل حل ہو جائیں گے۔
حکمران اتحاد کے پاس پارلیمنٹ میں عددی برتری ہے لیکن قانون سازی پائیدار نہیں۔ ماضی میں آمروں کی جانب سے کی گئی غیر جمہوری قانون سازی بھی ختم ہوگئی۔ پارلیمنٹ میں اراکین کی اکثریت کے بلبوتے پر متنازع ترامیم کو بلڈوز کیا جارہا ہے۔
چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم ملک کی سیاسی تاریخ میں محض ایک چھوٹا واقعہ ہیں۔ ضیاء الحق اور مشرف کی ترامیم کی طرح موجودہ قانون سازی بھی جلد ریورس ہو جائے گی۔ محض عددی اکثریت سے کی گئی قانون سازی کو تاریخ کبھی مستقل تسلیم نہیں کرتی۔
سزاؤں کی معطلی کیلئے دی گئی درخواستوں پر فوری سماعت نہ ہونا افسوسناک ہے۔عدالتی طریقہ کار کے مطابق اپیلوں سے قبل سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ ضروری ہے۔بارہا استدعا کے باوجود عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں سنایا۔عدالت نے میرٹ پر فیصلہ کرنے کے بجائے اپیلوں کی سماعت کو ترجیح دی ہے۔قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے درخواستوں کو معمول کی سماعت کا حصہ بنایا گیا۔

متعلقہ خبریں