پنجاب ( punjab )حکومت نے فلاحی اقدامات میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے پہلی بار پچاس ہزار بیواؤں اور یتیم بچوں کیلئے باقاعدہ مالی امداد پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جس سے معاشرے کے کمزور طبقات کو براہ راست سہارا ملے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے رحمت کارڈ پروگرام کا ڈیجیٹل افتتاح کرتے ہوئے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔وزیراعلیٰ رحمت کارڈ ( rahmat card )کیلئے ویب پورٹل (https//:rahmatcard.punjab.gov.pk) پر اپلائی کیا جاسکتا ہے
حکام کے مطابق اس منصوبے کیلئے صوبائی زکوٰۃ فنڈ سے پانچ ہزار ملین روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ ہر مستحق فرد کو ایک لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ اس پروگرام کے تحت صرف وہی بیوائیں اور یتیم بچے اہل ہوں گے جو شرعی طور پر زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔
امریکہ کی ایران کیخلاف نئی صف بندی شروع، تیز ترین حملے کر نے کا انکشاف
حکومت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمین، پنشنرز یا صاحب نصاب افراد اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، تاکہ امداد صرف حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے۔ درخواست دینے کیلئے جدید سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں، جن میں موبائل ایپ اور ویب پورٹل کے ذریعے آن لائن اپلائی کرنے کی سہولت شامل ہے، جبکہ مزید رہنمائی کیلئے ہیلپ لائن 1077 بھی قائم کی گئی ہے۔اہل افراد کا انتخاب پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کے ڈیٹا بیس کے ذریعے کیا جائے گا، اور ضلعی کوٹے کی بنیاد پر مستحقین کو حتمی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ اگر کسی درخواست دہندہ کا ڈیٹا رجسٹری میں موجود نہ ہو تو نادرا کے ذریعے اس کی تصدیق کی جائے گی۔
مالی امداد کی ادائیگی جاز کیش والٹ اکاؤنٹ کے ذریعے کی جائے گی، اور سروس چارجز حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ مستحقین پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ پروگرام کو مکمل شفافیت، میرٹ اور انصاف کے اصولوں پر چلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف مالی مدد فراہم کرنا ہے بلکہ بیواؤں اور یتیم بچوں کے سماجی وقار اور خودمختاری کو بھی یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا پنجاب دیکھنا چاہتی ہیں جہاں کوئی بیوہ یا یتیم خود کو بے سہارا محسوس نہ کرے۔















