ملک بھر کے بجلی صارفین کیلئے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے جہاں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایل این جی کی فراہمی بحال ہونے کے بعد لوڈ مینجمنٹ( load shedding ) مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ہونے والی لوڈشیڈنگ کی اصل وجہ بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ گیس کی کمی تھی۔
پاور ڈویژن( power crisis ) کے مطابق ایک روز قبل ایل این جی کی کھیپ موصول ہونے کے بعد بجلی کی پیداوار میں بہتری آئی اور سپلائی کو معمول پر لے آیا گیا۔ گزشتہ دنوں صارفین کو مختلف اوقات میں لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کچھ دنوں میں پانچ گھنٹے تک بجلی بند رہی، تاہم اب صورتحال واضح طور پر بہتر ہو چکی ہے۔
حکام نے بتایا کہ اپریل کے وسط میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئی تھی اور پھر مرحلہ وار اسے مزید کم کیا گیا، جبکہ اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ بجلی کا بحران سسٹم کی خرابی نہیں بلکہ ایندھن کی کمی کے باعث پیدا ہوا۔
مزید بتایا گیا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال، خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، نے گیس کی سپلائی کو متاثر کیا جس کا اثر بجلی کی پیداوار پر بھی پڑا۔ اگر مکمل طور پر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے ڈیزل یا فرنس آئل استعمال کیا جاتا تو بجلی کی قیمتیں مزید بڑھ جاتیں، جس سے عوام پر اضافی بوجھ پڑتا۔
حکام کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ تقریباً چھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جو پہلے بہت کم سطح پر تھی۔ ڈیموں سے پانی کے اخراج کا فیصلہ متعلقہ ادارے صوبوں کی ضروریات کے مطابق کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے بعض دعوے درست نہیں، اصل دستیاب صلاحیت تقریباً بتیس ہزار میگاواٹ کے قریب ہے جو موسم کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں بھی صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے گی، اور اگر کوئی غیر متوقع تکنیکی خرابی نہ ہوئی تو لوڈشیڈنگ دوبارہ نہیں ہوگی۔















