اہم خبریں

ایران کا تیل انفراسٹرکچر تین دن میں پھٹ سکتا ہے؟ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

ڈونلڈ ٹرمپ (  Trump   )نے ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا تیل کا انفراسٹرکچر آئندہ چند دنوں میں شدید دباؤ کے باعث متاثر ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ پائپ لائنز کے پھٹنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جب تیل کی ترسیل کا نظام اچانک رک جائے تو پائپ لائنز میں غیر معمولی دباؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کو تیل برآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس سے اندرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

روس کا بڑا اقدام،خطے کے حالات نئے رخ کی جانب گامزن،جا نئے تفصیل

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر تیل کو بروقت ٹینکروں یا جہازوں کے ذریعے منتقل نہ کیا جائے تو یہ دباؤ خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے اور پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے، جس کی بحالی بعد میں مشکل ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کو محدود ذخیرہ گنجائش کے باعث جلد ہی تیل کی پیداوار کم یا بند کرنا پڑ سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے تیل کو سمندری راستوں کے بجائے زمینی ذخیرہ گاہوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم یہ گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی پیداوار اچانک روک دی جائے تو زیر زمین ذخائر کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے اور مستقبل میں پیداوار کو بحال کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال سے ایران کی معیشت پر بھی شدید اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس بحران کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں کیونکہ جنگی صورتحال کے باعث پہلے ہی عالمی منڈی سے یومیہ بڑی مقدار میں تیل کم ہو چکا ہے، اور مزید کمی سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں