اہم خبریں

ایران نے حتمی شرائط پیش کر دی،تفصیلات سامنے آگئیں،جا نئے

عباس عراقچی (   AbbasAraghchi   )نے 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ جنرل عاصم منیر (      AsimMunir )سے ملاقات کی ہے، جسے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایک اہم سفارتی اور سیکیورٹی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ مختصر مگر اہم دورے پر اسلام آباد پہنچے، جہاں انہوں نے نہ صرف عسکری قیادت بلکہ اعلیٰ سیاسی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس دوران ان کی ملاقات شہباز شریف سے بھی ہوئی۔

آج کی بڑی خبر۔۔امریکہ کی ایران کو نئی آفر،مذاکرات کا نیاطریقہ کار

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق مذاکرات میں ایران کی جانب سے امن سے متعلق کچھ شرائط پیش کی گئیں جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق نئے قواعد، پابندیوں میں نرمی، معاوضے اور عدم جارحیت کی یقین دہانی جیسے نکات شامل تھے۔ تاہم واضح کیا گیا کہ یہ بات چیت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نہیں تھی۔سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں خطے میں جاری کشیدگی، ممکنہ جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکراتی فریم ورک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد میں ملاقاتوں کے بعد عباس عراقچی ماسکو روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات میں خطے کی صورتحال، جنگ بندی اور جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کی جائے گی۔

عباس عراقچی نے اپنے مختصر مگر اہم دورہ پاکستان کے دوران امریکا سے متعلق ایران کی تحریری شرائط پاکستانی حکام کے حوالے کر دی ہیں۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ان شرائط میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق واضح “سرخ لکیریں” بیان کی ہیں۔ دستاویز میں آبنائے ہرمز کے نئے ضوابط، ناکہ بندی کے خاتمے، ممکنہ معاوضے اور عدم جارحیت جیسے اہم نکات شامل ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران عباس عراقچی نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے جنرل عاصم منیر سے 24 گھنٹوں میں دو مرتبہ ملاقات بھی کی، جسے غیر معمولی سفارتی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ سفارتی مذاکرات کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، جس میں ایران نے اپنی پالیسی واضح انداز میں پیش کی۔

اس سے قبل عباس عراقچی نے مسقط کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے عمانی قیادت سے ملاقات کی، جبکہ سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے بھی کیے گئے۔

متعلقہ خبریں