تہران (اے بی این نیوز)ایرانی پاسداران انقلاب نے براہ راست مذاکرات کی درخواست کا وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا کہ امریکا طرف سےبراہ راست مذاکرات کی باتیں جھوٹ ہیں،امریکی ناانصافیوں کے باعث مذاکرات کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
ترجمان ایرانی وزارت دفاع رضاطلائی نیک نے اپنےبیان میں کہامیزائلوں کابڑا ذخیرہ اب بھی موجود ہے، جسےاستعمال نہیں کیا گیا،جنگ بندی شروع ہونے تک دشمن کے زیرِکنٹرول علاقوں کی فضائی حدود پر کنٹرول تھا۔
ایرانی رہبراعلیٰ کےمشیرمحسن رضائی نےاپنےبیان میں کہا ایران متحداورامریکا الجھاؤکاشکارہے،ایرانی عوام یکجا اورایک آوازہیں،امریکا الجھن اورمسلسل اسٹریٹجک غلطیوں میں مبتلاہے،ایران کےبہادرفرزند امریکی طاقت کے ٹوٹنےکی آواز دنیا تک پہنچائیں گے۔
امریکی صدرکی دھمکیوں پر ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کےچیئرمین ابراہیم عزیزی نےردعمل دیتے ہوئےکہا امریکی صدرکو ایران کےبارے میں بات کرنےکا کوئی حق نہیں،انکی اپنی مقبولیت اٹھارہ فیصد گرگئی ہے،کانگریس میں مواخذے کی باتیں ہورہی ہیں،یہ جارح مزاج اورمجرم شخص اپنےکیےپرشدید پچھتائےگا۔
ایرانی آرمی چیف میجرجنرل امیرحاتمی نےکہا ہم ایرانی قوم اور انقلابی مسلمان ہیں،ہمارا اتحاد فولادی ہے،رہبر اعلیٰ کی قیادت میں مجرم جارح کو اپنے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کریں گے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نےایک غیرملکی جہاز کو قبضےمیں لینےکا اعلان کردیا،کہاامریکی فوج کے ساتھ تعاون کے شبے میں جہازکو تحویل میں لیا گیا،غیرملکی جہاز نے متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہابرطانیہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی قانون سازی کرے گا،ریاست کو نقصان پہنچانے والے گروہوں کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے،
چند ہفتوں میں پارلیمنٹ کے نئے اجلاس میں قانون پیش کریں گے۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت چین کی حکومت کی دعوت پر آج سےیکم مئی تک چین کا دورہ کرینگے















