اہم خبریں

ایران کے گرد سخت بحری ناکہ بندی، کسی بھی وقت دوبارہ کارروائی کی جاسکتی ہے،جنرل ڈین

عالمی سطح پر کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے جہاں امریکی فوجی حکام نے ایران(      iran) کے گرد سخت بحری ناکہ بندی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت پر بھی گہرے اثرات ڈالنے شروع کر دیے ہیں۔امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے اعلیٰ عہدیدار جنرل ڈین کین کے (       america)مطابق یہ ناکہ بندی ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے اور جانے والے تمام جہازوں پر لاگو ہوگی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیر سے اس بحری ناکہ بندی پر مکمل عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔

موسم نے لی انگڑائی،بارش اور ژالہ باری،گرمی کی شدت کم ہو گئی

جنرل ڈین کین کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کسی بھی وقت دوبارہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے احکامات کی خلاف ورزی کی تو طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔بیان کے مطابق اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد ایران کی تیل برآمدات کو روکنا ہے، جس کے باعث ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کے بعد ایران کی برآمدات میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔

خطے میں اس وقت بھاری اسلحے سے لیس بحری جنگی جہاز تعینات کیے جا چکے ہیں، جبکہ اب تک 13 جہاز اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے واپس لوٹ چکے ہیں۔ اس پیش رفت نے عالمی شپنگ اور تیل کی سپلائی چین کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں