امریکا نے آبنائے ہرمز( strait of hormuz ) کے قریب اپنے جدید ترین جاسوس ڈرون ( drone)کی تباہی کی تصدیق کر دی ہے۔رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والا ڈرون MQ-4C Triton تھا، جو امریکی بحریہ( america) کا انتہائی جدید اور مہنگا نگرانی کا طیارہ شمار ہوتا ہے۔ اس کی قیمت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے مہنگے ترین ڈرونز میں شامل ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے خوشخبری،جا نئے کیا
امریکی حکام نے اس واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اور ایرانی میڈیا اس دعوے پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اسے ممکنہ طور پر ایرانی فضائی دفاعی نظام کی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے ڈرون کو ایران کی جانب سے مار گرائے جانے کے دعوے سامنے آ چکے ہیں، جس سے موجودہ واقعہ مزید حساس بن گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ ڈرون 9 اپریل کو نگرانی کا مشن مکمل کرنے کے بعد واپسی کے سفر پر تھا کہ اچانک 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آیا اور چند ہی لمحوں میں ریڈار سے غائب ہو گیا۔ غائب ہونے سے قبل اس نے ایمرجنسی سگنلز بھی نشر کیے، جو کسی ممکنہ خرابی یا حملے کی نشاندہی کرتے ہیں۔















