ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق نرمی اور کھلنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ صورتحال کے مطابق عالمی معیار کا خام تیل PETROL جسے برینٹ کہا جاتا ہے، اس کی قیمت میں تقریباً آٹھ فیصد کمی دیکھی گئی ہے اور یہ گر کر اکیانوے ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل بھی دباؤ کا شکار رہا اور اس کی قیمت چھاسی ڈالر فی بیرل تک کم ہو گئی ہے۔
یہ کمی اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے بجائے نسبتاً بہتری اور سپلائی لائنز کے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ توانائی کے تاجروں کے مطابق جب آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے کھلے رہتے ہیں تو عالمی سپلائی میں آسانی پیدا ہوتی ہے، جس سے قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔
بریکنگ نیوز۔۔۔ایران کا آبنائے ہرمز مکمل کھولنے کا اعلان
دوسری جانب سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔ اگر دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آنے کا خدشہ موجود ہے۔عالمی معیشت پہلے ہی مہنگائی اور توانائی کے دباؤ سے گزر رہی ہے، ایسے میں خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی صارفین اور درآمدی ممالک کے لیے وقتی ریلیف قرار دی جا رہی ہے۔















