اسلام آباد(اے بی این نیوز ) ورلڈ بیک اپ ڈے کے موقع پر کیسپرسکی نے اہم ڈیٹا محفوظ کرنے کے مقبول طریقوں پر روشنی ڈالی اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے عملی مشورے پیش کیے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان نسل (زومرز) اور ملینیئلز تقریباً ہر چیز ڈیجیٹل طور پر محفوظ کرتے ہیں، جبکہ 55 سال سے زائد عمر کے تقریباً ہر تین میں سے ایک فرد اب بھی روایتی کاغذی طریقہ کو ترجیح دیتا ہے۔
کیسپرسکی کے مارکیٹ ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق 84 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی حساس ذاتی معلومات جیسے شناختی دستاویزات، مالی تفصیلات، طبی معلومات یا تصاویر کا ذخیرہ الیکٹرانک شکل میں رکھتے ہیں۔ ڈیجیٹل ڈیٹا اسٹوریج کے حوالے سے 56 فیصد افراد اہم ریکارڈ کمپیوٹر یا ہارڈ ڈرائیو میں محفوظ کرتے ہیں، 45فیصد کلاؤڈ سروسز استعمال کرتے ہیں جبکہ 20 فیصدافراد سرکاری ڈیجیٹل سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔ ہر اسٹوریج طریقے کے اپنے فوائد اور حدود ہیں۔ فزیکل میڈیا گم یا خراب ہو سکتا ہے، بیرونی ہارڈ ڈرائیوز ہر وقت استعمال میں آسان نہیں ہوتیں، جبکہ کلاؤڈ سروسز تک رسائی آسان ہونے کے باوجود غیر مجاز رسائی کا خطرہ رہتا ہے۔
ڈیٹا اسٹوریج کا کوئی ایک ہی طریقہ سب کے لیے موزوں نہیں، اور نہ ہی ہر فائل کا بیک اپ ضروری ہے۔ 3-2-1 بیک اپ حکمت عملی کے مطابق اہم ڈیٹا کی کم از کم تین کاپیاں رکھیں، انہیں دو مختلف ذرائع پر محفوظ کریں، اور کم از کم ایک کاپی کسی بیرونی جگہ (جیسے کلاؤڈ یا آف لائن مقام) پر رکھیں۔ انتہائی حساس معلومات جیسے پاس ورڈز، شناختی کارڈ اور مالی تفصیلات کے لیے خصوصی توجہ ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے کیسپرسکی پاس ورڈ مینیجر جیسے محفوظ سافٹ ویئر کا استعمال کریں، جو صارف کی لاگ ان معلومات اور بینک کارڈز کے ساتھ ساتھ اہم دستاویزات (جیسے اسکین شدہ پاسپورٹ/شناختی کارڈ، پی ڈی ایف فائلز، ایڈریس اور نوٹس) کو محفوظ رکھنے کے لیے“سیکرٹ والٹ”کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
کیسپرسکی کے مطابق 98 فیصد صارفین اپنے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کچھ اقدامات کرتے ہیں، جو ایک مثبت علامت ہے۔ تاہم 36 فیصد افراد آسانی سے یاد رہنے والے پاس ورڈز استعمال کرتے ہیں، جو سیکیورٹی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے برُوٹ فورس حملوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ماہرین دوہری تصدیق فعال کرنے یا پاس کی ٹیکنالوجی اپنانے کی سفارش کرتے ہیں۔ کیسپرسکی پریمیم صارفین کو ونڈوز ڈیوائسز پر باقاعدہ بیک اپ اور ڈیٹا بحال کرنے کی سہولت دیتا ہے، جبکہ ڈیٹا کو آسانی سے ریموویبل ڈرائیوز یا کلاؤڈ میں انکرپٹڈ شکل میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
کاسپرسکی کی کنزیومر بزنس کی نائب صدر مارینا ٹیتووا کے مطابق“ہم سب جانتے ہیں کہ بیک اپ ضروری ہے، مگر اکثر لوگ اسے نظرانداز کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ایک ساتھ سب کچھ محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ڈیٹا کو اہمیت کے مطابق تقسیم کریں —انتہائی اہم، اہم اور کم اہم۔ اہم ڈیٹا کے لیے فوری بیک اپ خودکار بنائیں اور باقی کے لیے ہفتہ وار یا ماہانہ شیڈول مقرر کریں۔ حساس معلومات جیسے پاس ورڈز اور شناختی دستاویزات کے لیے محفوظ والٹ کا استعمال کریں۔ جب آپ خودکاری اور ترجیحی نظام اپناتے ہیں تو بغیر دباؤ کے اہم چیزوں کی حفاظت ممکن ہو جاتی ہے۔”
مزید پڑھیں :رواں مالی سال کے بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات جاری ،جا نئے تفصیل















