تہران (اے بی این نیوز ) پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائنی ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس واقعے کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کر دی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس واقعے پر گہری تشویش اور جذباتی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق علی محمد نائنی جولائی 2024 سے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ نہ صرف ایک سرکاری عہدیدار تھے بلکہ ایک جامعہ میں سماجی علوم کے استاد بھی تھے، جہاں وہ نوجوانوں کی تربیت اور فکری رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے تھے۔مزید اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی حکومت نے 2024 میں ان پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد وہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔
مزید پڑھیں :پنجاب میں پہلا سکل سٹی قائم کرنے کی منظوری دیدی گئی















