اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی تحریک انصاف کی فوری طور پر نجی اسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تین صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ صورتحال میں براہ راست اسپتال منتقلی کا حکم نہیں دیا جا سکتا، تاہم قیدی کی صحت کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔فیصلہ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل بینچ نے جاری کیا۔ عدالتی حکم کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد کو فوری طور پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی ہے جو قیدی کی صحت کا مکمل معائنہ کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ میں مختلف ماہر ڈاکٹرز شامل ہوں گے جن میں پمز اسپتال کے ڈاکٹر عارف اور شفا آئی اسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی بھی دیگر ماہرین کے ساتھ شامل ہوں گے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ میڈیکل بورڈ اپنی تفصیلی رپورٹ چیف کمشنر کو پیش کرے گا جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ بانی تحریک انصاف کو اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ جیل قوانین کے مطابق اگر کسی قیدی کی طبی حالت تشویشناک ہو تو جیل حکام پر لازم ہے کہ وہ اس کے اہل خانہ کو فوری طور پر آگاہ کریں۔ عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے جیل رولز اور قانون کے مطابق مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ جیل قوانین کے تحت حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی قیدی کو علاج کی غرض سے جیل سے باہر منتقل کر سکتی ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ اختیار انتظامیہ کا ہے اور عدالت ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں براہ راست مداخلت نہیں کر سکتی۔عدالت کے مطابق جیل حکام کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی تحریک انصاف کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ اسی بنیاد پر فوری اسپتال منتقلی کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ملاقاتوں کے حوالے سے بھی اپنے فیصلے میں کہا کہ اس معاملے پر پہلے سے ایک لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے اور متعلقہ حکام کو اسی کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں :آبنائے ہرمز میں ایران کے حملے تیز،متعدد جہازوں کو نشانہ بنایا، پاسداران انقلاب کا انتباہ جاری















