اسلام آباد (اے بی این نیوز)وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان تصادم کسی صورت نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان ہمیشہ اسلامی دنیا میں مصالحت اور ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں غلط فہمیوں کے خاتمے اور امن کے قیام کا خواہاں ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک متحد ہو کر مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے کئی مواقع پر جنگ بندی اور کشیدگی کم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں معاملات کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت بھی ایران، سعودی عرب اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطوں میں ہے جبکہ سیاسی اور عسکری قیادت کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہے تاکہ جنگ کا خطرہ ٹالا جا سکے اور مذاکرات کے ذریعے کوئی مثبت حل نکل آئے۔
رانا ثنا اللہ نے آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ راستہ عارضی طور پر بند بھی ہو جائے تو پاکستان کے پاس متبادل راستے موجود ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً اٹھائیس دن کے لیے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، اس لیے فوری بحران کا کوئی خدشہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال طویل ہو گئی تو متبادل روٹس استعمال کیے جائیں گے اور پاکستان اپنی ضروریات کے لیے سعودی عرب اور دیگر ممالک سے بھی سپلائی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ متبادل راستوں سے ترسیل ممکن تو ہے لیکن اس کی لاگت زیادہ پڑ سکتی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ آٹھ سے دس دن میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی اور امید ہے کہ معاملات بہتر سمت میں جائیں گے۔
اگر آبنائے ہرمز کا راستہ طویل عرصے تک بند رہا تو تجارت اور ترسیل کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں اور اس کے عالمی معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جس سے خطے کے معاشی بہاؤ پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترجیح ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی محاذ آرائی نہ ہو اور تمام اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔ حکومت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کے امکان پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیب ترمیمی بل دراصل ایک پرائیویٹ ممبر بل تھا جسے بعد میں حکومت نے اپنایا، تاہم بعض تحفظات سامنے آنے کے بعد اسے واپس لے لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تنقید ان کی رائے ہے اور حکومت اس کا احترام کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ چیئرمین نیب کے خلاف اپوزیشن کوئی بڑا الزام ثابت نہیں کر سکی جبکہ ادارے نے کئی سو ارب روپے کی ریکوریز کی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ نیب کو خوف کی علامت بنانے کے بجائے اسے میرٹ اور قانون کے مطابق چلایا جائے۔ ان کے مطابق تجربہ کار افراد کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا اداروں کے مفاد میں ہوتا ہے۔
نیب قوانین میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تجویز دی گئی ہے کہ نیب مقدمات میں اپیل کا ایک مزید حق دیا جائے تاکہ کیسز پر قانونی اور بنیادی طور پر مزید غور کیا جا سکے۔ پہلے نیب عدالت کے فیصلوں کے خلاف صرف ایک اپیل ہائی کورٹ میں ہوتی تھی اور اس کے بعد صرف آئینی درخواست کا راستہ رہ جاتا تھا، لیکن نئی تجویز کے تحت اپیل کے عمل کو زیادہ واضح اور مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈ لاک سے نہیں۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات میں اپوزیشن کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے اور حکومت ماضی میں بھی اپوزیشن کو آن بورڈ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا، تاہم مذاکرات میں شامل ہونا یا نہ ہونا اپوزیشن کا اپنا فیصلہ ہے کیونکہ حکومت کسی جماعت کو زبردستی مذاکرات میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
مزید پڑھیں :ٹی20ورلڈکپ،بھارت انگلینڈکوشکست دےکرفائنل میں پہنچ گیا















