تہران ( اے بی این نیوز)خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اہم اسرائیلی کمان مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں حالیہ فوجی تناؤ کے تناظر میں کی گئیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کی کمپنی آرامکو کی راس تنورہ ریفائنری پر میزائل حملہ کیا گیا۔ اگر اس نوعیت کا حملہ ثابت ہوتا ہے تو اس کے عالمی تیل منڈی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ راس تنورہ خطے کی بڑی آئل پروسیسنگ تنصیبات میں شمار ہوتی ہے۔
ایرانی بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ امریکی سی آئی اے اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دفاعی مبصرین کے مطابق ایسے دعوے معلوماتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے زمینی حقائق کا انتظار ضروری ہے۔
قطر میں امریکا کے زیر انتظام العدید ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ یہ ایئربیس مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اسی دوران قطر میں مقیم امریکی شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ممکنہ طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔
ادھر امریکی وزیر دفاع نے ایرانی بحری جہاز پر حملے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد خلیج میں بحری کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بحری راستے، خصوصاً توانائی سپلائی لائنز، عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں اور کسی بھی رکاوٹ کے اثرات عالمی معیشت پر فوری پڑ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :فیصلہ کن جنگی برتری حاصل،اسلحہ کے ذخائر بے تہاشا،دشمن کو شکست فاش دینگے،سربراہ ایرانی فوج















