برطانیہ(اے بی این نیوز)برطانیہ کی حکومت نے چار ممالک کے شہریوں کے اسٹوڈنٹ ویزے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام بڑھتی ہوئی پناہ کی درخواستوں کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ کچھ افراد قانونی راستوں سے داخل ہو کر بعد میں پناہ کی درخواست دے رہے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ پابندیاں افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں پر لاگو ہوں گی۔
حکام نے بتایا کہ 2021 سے 2025 کے درمیان ان ممالک کے طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ افغان شہریوں کی جانب سے کام کے ویزے پر آ کر درخواستیں دینے کی تعداد جاری کردہ ویزوں سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ برطانیہ جنگ اور ظلم سے بچنے والوں کو پناہ دیتا رہے گا لیکن ویزے کے نظام کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔
امیگریشن کا معاملہ وزیر اعظم کے لیے حساس ہے۔ ان کی حکومت نے پناہ کے قوانین سخت کرنے کا وعدہ کیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اصلاحی جماعت عوام میں زیادہ مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔
یہ نئی پابندیاں 26 مارچ سے نافذ ہوں گی۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ نظام میں استحکام آنے کے بعد محدود اور محفوظ قانونی راستے متعارف کرائے جائیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کا پناہ گزین نظام بعض یورپی ممالک کے مقابلے میں زیادہ نرم ہے اور یہ لوگوں کو کشش دیتا ہے۔ حکومت نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ مہاجرین کی حیثیت عارضی ہو اور غیر قانونی آنے والوں کو جلد ملک بدر کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی: امریکی سفارتخانے کی کراچی اور لاہور قونصل خانوں کو عملہ کم کرنے کی ہدایت













