اہم خبریں

عمران خان علاج ،ریاست کو غصے یا ضد کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں، بابر اعوان

اسلام آباد ( اے بی این نیوز      )سابق وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ بانی کو اپنی مرضی کے ڈاکٹروں تک رسائی دینا عدالتی حکم ہے اور سپریم کورٹ واضح ہدایت دے چکی ہے کہ معائنہ نامزد اور قابل اعتماد معالجین کریں۔ ان کے مطابق کسی بھی بیماری کے علاج سے قبل درست تشخیص ناگزیر ہوتی ہے اور اصل وجہ معلوم کیے بغیر علاج ممکن نہیں۔ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ میڈیکل رپورٹس کی نقول کے حصول کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا گیا اور ڈاکٹروں کو دو مرتبہ بھیجا گیا تاکہ معائنے کے عمل پر کوئی ابہام باقی نہ رہے، تاہم میڈیکل رپورٹس کی کاپیاں فراہم نہ کرنا شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ ایمرجنسی کو سنجیدہ لینے کے بجائے حقائق چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ واحد کیس ہے جو رات کے اندھیرے میں چل رہا ہے، اس لیے علاج کے عمل کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ شکوک و شبہات ختم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج آئینی اور جمہوری حق ہے اور کسی کو سڑکوں پر آنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ ان کے بقول ساڑھے تین سال سے مسلسل احتجاج دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک مثال ہے۔ انہوں نے عدالتی ہدایات پر عملدرآمد میں تاخیر، اپیلوں کی سماعت نہ ہونے اور ضمانتوں میں تاخیر کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ سے جو امید وابستہ تھی وہ بتدریج کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم چیف جسٹس کے ریمارکس اس بات کا اشارہ ہیں کہ عدلیہ میں باضمیر ججز موجود ہیں۔

اگر عدالتی نظام کو انتظامی دباؤ میں رکھا گیا تو انصاف کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، ریاست کو غصے یا ضد کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بانی پر ڈیل قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، حالانکہ بانی کسی خفیہ ڈیل پر یقین نہیں رکھتے اور فیصلہ عوامی طاقت سے ہوگا۔اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ ریاست شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے، ناانصافی سے نہیں، اور اداروں کے طرز عمل سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی سیاسی اختلاف کا حل آئینی اور قانونی راستے سے ہی ممکن ہے اور نظام انصاف کو آزاد اور خودمختار رہنا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

سابق وزیر قانون نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نمائندہ حکومت نہیں، فارم 45 کے نتائج کو تبدیل کر کے مینڈیٹ بدلا گیا اور الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چند نشستوں کو مختلف طریقوں سے اکثریت میں تبدیل کیا گیا اور الیکشن کمیشن غیر آئینی طور پر قائم کیا گیا، جس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ریاست کو مافیا طرز حکمرانی کے بجائے شفاف اور جوابدہ نظام اپنانا ہوگا اور عوام کے ووٹ کا احترام ہی سیاسی استحکام کی بنیاد ہے۔

ڈاکٹر بابر اعوان کے مطابق ہارے ہوئے امیدوار مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر حکومت جواب نہیں دے رہی، جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد نے عدالتوں یا طاقت کے استعمال سے غیر قانونی اقدامات کیے جس سے عوامی اعتماد متاثر ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام اور جمہوری نظام کے لیے کھڑے ہیں، ان کے مطالبات میں قانون کی بالادستی، آئین کی برتری اور شہری حکمرانی کا تحفظ شامل ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقدمات ظالمانہ طریقے سے بنائے اور چلائے جا رہے ہیں اور شفافیت کی کمی واضح ہے، تاہم بانی کی قیادت عوام کے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے مضبوط رہنے کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں :موٹر سائیکل ایم ٹیگ مہم،28 فروری آخری تاریخ اس کے بعد مو ٹر سائیکل تھا نہ بند

متعلقہ خبریں