اہم خبریں

افغانستان میں طالبان حکومت کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، دی ڈپلو میٹ

لندن (  اے بی این نیوز   ) افغانستان میں طالبان حکومت کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی تجزیہ کاروں اور سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں سخت گیر طرز حکمرانی اور محدود سیاسی آزادیوں کے باعث صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

بین الاقوامی جریدے The Diplomat کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان شدت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں مسلح عناصر نہ صرف ملک کے اندر بلکہ سرحدوں سے باہر کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ماضی جیسے بڑے سانحات کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں بعض حلقوں نے نائن الیون جیسے واقعات سے بچاؤ کے لیے طالبان حکومت پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکیورٹی رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس پاکستان میں سینکڑوں حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ خطے میں چینی کاروباری مفادات اور تاجکستان میں بعض اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورکس کی سرحد پار سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ افغان حکومت کو دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے داخلی سلامتی، معاشی استحکام اور عوامی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کو عالمی برادری کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے، ورنہ پابندیوں میں مزید سختی اور سفارتی تنہائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔عالمی مبصرین کے مطابق افغانستان کی موجودہ صورتحال پورے خطے کے امن سے جڑی ہوئی ہے اور پائیدار استحکام کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں :مسافر بس دریا میں جا گری،19 افراد ہلاک 25زخمی ہو گئے

متعلقہ خبریں