اہم خبریں

سینیٹ اجلاس، حکومت اور اتحادی پیپلزپارٹی اہم معاملے میں آمنے سامنےآگئے

پانی کی تقسیم کے معاملے پر حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے سندھ کے پانی کی کٹوتی کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت پر دریائے سندھ پر کینال بنانے کا الزام لگایا ہے، جس سے سندھ کے پانی پر اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر سندھ کی مشاورت نہیں کی گئی اور اس پر سندھ بھر میں احتجاج ہو رہا ہے۔ شیری رحمان نے یہ بھی کہا کہ چولستان کے ریگستان میں ہریالی کے لیے دریائے سندھ کے پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے، جو سندھ کے لیے نقصان دہ ہے۔

شیری رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ کو اس معاملے میں اہمیت دی جانی چاہیے، کیونکہ 7 ملین ایکڑ اراضی کو زرخیز بنانے کے لیے پانی کی کمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں پانی کی شدید کمی ہے، اور سندھ کے شہریوں کو اس بحران کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی مجبوریوں پر سندھ سے مشاورت ضروری ہے۔

دوسری جانب، مسلم لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی نے شیری رحمان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب اپنے حصے کے پانی سے کینال بنا رہا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت اگر پنجاب پانی کی تقسیم کے مطابق نہریں بنا رہا ہے تو اس پر کوئی بحث نہیں ہو سکتی، اور اس سے دوسرے صوبوں کا حق متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں