اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ پی ٹی آئی پر پابندی کی کوئی بات کسی بھی فورم پر ڈسکس ہوئی ہے،پارٹیوں پر پابندی لگنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نئے نام سے پارٹی لانچ ہو جاتی ہے
وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس خبر میں کوئی سچائی ہے، یہ غلط ہےکسی فورم پر یہ ڈسکس تک نہیں ہوا، کوئی تجویز بھی نہیں ہے،پچھلے تین سال سے وہ کہتے رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سوا میں کسی سیاسی قوت کے ساتھ بات نہیں کروں گا،
پی ٹی آئی والے اگر یہ کوشش نہ کرتے تو بہتر تھا پہلے ہی مذاکرات کی بات کرلیتےجو لوگ بھی ان کو ڈی چوک لے کے آئے وہ ان کے دوست نہیں دشمن ہیں۔پہلی دفعہ کراؤڈ دیکھا ہو تو بندے کا ویسے بھی میٹر گھوم جاتا ہےاب تو پی ٹی آئی کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں جو بھی ہوا غلط ہوا،
بشری بی بی کی سیاسی انٹیگریٹی پر بہت بڑا سوالیہ نشان پی ٹی آئی خود اٹھا رہی ہے،میرا نہیں خیال کہ اس ماحول میں مذاکرات کی کوئی گنجائش رہ گئی ہے،پی ٹی آئی میں بعض لوگوں کے رویئے، سوچ میں بڑی شدت ہے، بعض میں اعتدال ہے،*آج بھی کہتا ہوں پی ٹی آئی کی آدھی سے زیادہ لیڈرشپ کمپرومائزڈ ہے،علی امین گنڈا پور بھی کمپرومائزڈ ہے















