اسلام آباد( نیوز ڈیسک )اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے آزادی مارچ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شو کاز نوٹس جاری کردیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف آزادی مارچ کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم عمران خان کے وکلا عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ خرم نواز، عامر محمود کیانی اور جمشید مغل بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
وکیل تنویر حسین نے علی نواز اعوان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ اسد عمر کہاں ہیں؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ اسد عمر اس مقدمے سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ تنویر حسین کا میڈیکل سرٹیفکیٹ درخواست کے ساتھ لگا دیں۔
جج طاہر عباس سپر نے مزید کہا کہ عمران خان کی حاضری کے حوالے سے رپورٹ آئی ہے جس میں کہا گیا انٹر نیٹ میسر نہیں، آن لائن حاضری نہیں ہو سکتی، گزشتہ روز بھی یہی رپورٹ آئی تھی شو کاز نوٹس جاری کیا تھا، آج بھی نوٹس جاری کر رہا ہوں، لکھوں گا نیٹ نہیں تو ذاتی حیثیت میں پیش کریں۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگوانے پر جیل حکام کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مزید کمی















