اہم خبریں

نومولود بچوں پرحملے کرنیوالی سفاک سعودی خاتون ڈاکٹر انجام کو پہنچ گئی

جدہ (نیوزڈیسک)سعودی عرب میں 11 نوزائیدہ بچوں کیساتھ بدسلوکی کرنے کے جرم میں خاتون ہیلتھ پریکٹیشنر کو پانچ سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانے کی سزا سنادی گئی۔پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں میں مذکورہ خاتون کو نوزائدہ بچّے پرتشدد کرتے ہوئے دیکھاگیا اور اس کے بعد اس خاتون ڈاکٹرپر فردجرم عائد کی گئی تھی۔استغاثہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کوتین بار نوزائیدہ بچوں کے چہرے پر حملہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔اس نے جان بوجھ کرنوزائیدہ بچوں کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا اور اس طرح اپنی ذمہ داریوں اور سرکاری فرائض کی خلاف ورزی کی تھی۔اس کے بعد تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر نے دوسرے بچوں کے ساتھ بھی اسی طرح کی حرکتوں کودُہرایا تھا اوراس نے اپنے فرائض کے دوران میں بچوں پرتشدد کا اعادہ کیا تھا۔ان الزامات کے منظرعام پر آنے کے بعد خاتون ڈاکٹرکومتعلقہ عدالتی حکام کے حوالے کیا گیا۔انھوں نے ابتدائی فیصلے میں اسے جرمانے کی ادائی کے علاوہ پانچ سال قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اس امید میں اپیل کی گئی تھی کہ انھیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔اس میں مزیدکہا گیا ہے کہ پریکٹیشنر نے اعتماد کومجروح کیااورنوزائیدہ بچّوں کی دیکھ بھال کے دوران میں اپنی ملازمت کا غلط استعمال کیا۔خاتون ڈاکٹر نے نومولودبچوں کی حفاظت کرنا تھی لیکن اس کے بجائے الٹاان سے ناروا سلوک کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

متعلقہ خبریں