اسلام آباد/کراچی(اے بی این نیوز) انمول عرف “پنکی” سے منسلک مبینہ منشیات نیٹ ورک کی تحقیقات میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ مبینہ کالر آئی ڈی ڈیٹا بیس اور “پنکی لیکس” کے نام سے گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ فہرستوں نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انمول پنکی سے مبینہ طور پر جڑے 881 رابطہ نمبرز کا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے، جن کی مختلف پہلوؤں سے چھان بین جاری ہے۔ تحقیقاتی حکام کال ریکارڈ، ڈیجیٹل کمیونیکیشن، مالی لین دین، سفری تفصیلات اور موبائل فونز کے فرانزک ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ فہرستوں میں 300 سے زائد افراد کے نام شامل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جن میں کاروباری شخصیات، سیاستدان، سرکاری افسران، شوبز شخصیات اور دیگر بااثر افراد شامل بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ تاحال کسی بھی شخصیت کا نام سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا اور صرف رابطہ ریکارڈ میں نام آنے سے مجرمانہ تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
مبینہ کالر آئی ڈی ڈیٹا بیس میں بھی متعدد معروف شخصیات کے نام اور عہدے سامنے آئے ہیں۔ میڈیا شخصیات میں Sana Bucha کو “ثناء بچا اینکر” اور “ثناء بچا میزبان” جبکہ Zarrar Khuhro کو “ضرار کھوڑو تجزیہ کار” کے طور پر ٹیگ کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح شوبز شخصیات میں Muneeb Butt کا نام “منیب بٹ اداکار” کے عنوان سے سامنے آیا، جبکہ سیاسی حلقوں سے Muhammad Ali Bhutto، Ali Rashid اور تیمور طاہر کے نام مختلف سیاسی عہدوں اور جماعتی وابستگیوں کے ساتھ درج ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض سرکاری افسران، پولیس حکام اور سفارتی شخصیات کے نام بھی مبینہ ڈیٹا بیس میں شامل ہیں، جن میں SSP عثمان باجوہ، یاسر وہاب کلواڑ، ساجد بلوچ اور زاہد ملک کے نام مختلف سرکاری و سفارتی ٹیگز کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب کراچی پولیس نے انمول پنکی کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔ سٹی کورٹ کراچی میں سماعت کے دوران پولیس نے ملزم محمد سمیر کی گرفتاری اور تفتیش کیلئے عدالت سے اجازت طلب کی، جسے منظور کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق محمد سمیر مبینہ طور پر موٹر سائیکل کے ذریعے منشیات سپلائی کرتا تھا اور رقوم بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے میں بھی کردار ادا کرتا رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انمول پنکی نے دورانِ تفتیش بعض مبینہ رائیڈرز اور رابطہ کاروں کے نام بھی فراہم کیے ہیں۔
ادھر پولیس نے انمول پنکی کے خلاف جعلی شناختی کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کے معاملے پر بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ملزمہ نے مبینہ طور پر “سائرہ شوکت” کے نام سے شناختی کارڈ بنوانے کی کوشش کی، تاہم کوئی جعلی شناختی کارڈ جاری نہیں ہوا۔ اس حوالے سے نادرا کو خط ارسال کرکے قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اینٹی نارکوٹکس اور انٹیلی جنس ادارے مبینہ نیٹ ورک سے جڑی بینک ٹرانزیکشنز، جائیدادوں اور ممکنہ بین الاقوامی روابط کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ امدادی مشن پر اسرائیلی دھاوا، پاکستانی کارکن سعد ایدھی کی گرفتاری پر پاکستان کا سخت ردعمل















