اہم خبریں

سپریم کورٹ بار نے بھی مجوزہ ترمیم پر 4 اعتراضات اٹھا دیئے

اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت، نے کہا کہ کاش آپ نے آئینی پیکج کی تیاری سے پہلے ہم سے تجاویز مانگ لی ہوتیں تو آج یہ ضرورت نہ پڑتی۔ہمارے اعتراضات چار چیزوں پر ہیں۔
آئینی عدالت کو کافی بحث ہو چکی ہے ججز کی عمر کیوں بڑھانا چاہتے ہیں۔

ججز کے تبادلہ کی شق کیوں شامل کی گئی۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں تبدیلی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے ناکہ مردہ۔ زندہ دستاویز کا مطلب یہ کہ اس میں تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔
قرارداد مقاصد میں عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کا کہا گیا ہے۔ دیگر ممالک میں بھی آئینی عدالتیں موجود ہیں۔ آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ میں ضابطہ فوجداری و دیوانی مقدمات زیر التوا ہیں۔ ہم نے دیکھنا ہے کہ آئینی عدالت عدلیہ کی آزادی کیخلاف ہے یا نہیں۔ اگر عدلیہ کی آزادی کے برخلاف نہیں تو آئینی عدالت کا ضرور قیام ہونا چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی ترمیم بھی شامل ہے،سپریم کورٹ فیصلہ میں قرار دیا کہ ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ ہم کہتے ہیں سپریم کورٹ 63اے کی غلط تشریح کی گئی۔
موجودہ جوڈیشل کمیشن میں چھ ججز سپریم کورٹ کے ہوتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اب وکیلوں کو سینئر کا ٹائیٹل دینا چھوڑ دیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے پشاور ہائیکورٹ جج کی سفارش کو 8 صفر سے مسترد کیا۔ عدالتی آرڈر سے پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔
ہم نےمسودہ مین جوڈیشل کمیشن پارلیمانی کو ایک کردیا۔
نو رکنی جوڈیشل کمیشن میں چار ارکان پارلیمنٹ کو شامل کر دیا ہے۔ صوبائی سطح پر تعیناتی کیلئے چار صوبائی نمائندے شامل ہونگے۔ لاہور ہائیکورٹ میں آخری تعیناتیاں کب ہوئی ہیں۔

آخری تقرریاں لاہور ہائیکورٹ میں چار سال پہلے ہوئی۔ لاہور ہائیکورٹ میں 24 آسامیاں خالی ہیں۔ تجویز کیا ہے جوڈیشل کمیشن کو مستقل سیکرٹریٹ ہونا چاہیے۔ جج کی کارکردگی کیخلاف رپورٹ آئے گی تو کمیشن معاملہ جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیں گے۔
مزید پڑھیں :جماعت اسلامی نے بھی مجوزہ آئینی ترمیم اور حکومتی طریقہ کار کو مسترد کر دیا

متعلقہ خبریں