اہم خبریں

حق مانگنا جرم بن گیا،احتجاج کرنے پر بحریہ ٹائون انتظامیہ نے شہری کے خلاف انتہائی قدم اٹھالیا

راولپنڈی(نیوزڈیسک)بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اسلام آباد کے رہائشیوں کاحقوق مانگنا عذاب بن گیا، اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانے پر بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے شہری کے گھر کا نہ صرف بجلی کنکشن منقطع کر دیا بلکہ ان کے گھر کے داخلی دروازے کے سامنے بھی گہرا گڑھا کھود کر ظلم کی انتہا کردی ۔

تفصیلات کے مطابق چند روز قبل بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں بجلی کے بلوں میں آئے روز اضافے کے خلاف علاقہ مکینوں نے آوازاٹھائی تھی ،رہائشیوں کامطالبہ تھا کہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ آئیسکو سے سستے داموں فی یونٹ بجلی لے کر مہنگی فروخت کر رہی ہے، بجلی کی فی یونٹ قیمت میں انتظامیہ کی جانب سے مسلسل اضافہ کیے جانے کے ساتھ ساتھ متفرق چارجز بھی بجلی کے بلوں میں ڈالے جا رہے ہیں، جس سے شہری کافی پریشان ہیں اور انہوں نے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ سے اس حوالے سے بارہا شکایت بھی کی تاہم بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اسلام آباد کی انتظامیہ نے کان نہیں دھرے۔

مزیدپڑھیں:سپریم کورٹ،فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

علاقہ مکینوں نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اسلام آباد کی اس کے خلاف احتجاج کیا تاہم اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا رہائشیوں کو مہنگا پڑ گیا۔

انتظامیہ بحریہ ٹاؤن نے شہری کے گھر کا نہ صرف بجلی کنکشن منقطع کر دیا بلکہ زیر زمین تاریں بھی اکھاڑ پھینکیں،یہی نہیں بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے اہلکار اپنے ساتھ ایک دیو قامت کرین بھی لے کر آئے اور شہری کے گھر کے داخلی دروازے پر ایک گہرا گڑھا کھود دیا جس سے شہری اپنے گھر میں محصور ہو کر رہ گیا ہے، گھر میں آنے جانے کے لیے نہ وہ اپنی گاڑی اندر لے جا سکتے ہیں اور نہ ہی باہر لے کر آ سکتے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اسلام آباد کی انتظامیہ کے اس اقدام کے خلاف علاقہ مکینوں نے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں نے کہا کہ وہ انتظامیہ کی اس غنڈا گردی کے خلاف ہر فورم پر اس وقت تک آواز بلند کرتے رہیں گے جب تک ان کے جائز مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔

اس تمام واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر جاری کرنے والے راولپنڈی اسلام آباد کے رہائشی صدر تاجر طحہٰ عطاء نے کہا کہ 20 روز قبل ہم نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا تھا ،اس وقت ایک طاہر بٹ نامی شخص جو ملک ریاض کے انتہائی قریبی ہیں انہوں نے ہمارے ساتھ مذاکرات کیے جس کے بعد ہمارا دھرنا پرامن طریقے سے منتشر ہو گیا اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے تھے تاہم آج انتظامیہ کے کچھ کارندوں نے گھٹیا حرکت کر کے اپنی ہی جگ ہنسائی کروائی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کر کے آپ کو کیا حاصل ہوگا، جب ہماری پہلے سے بات ہو گئی تھی، ہمارے معاملات طے پا گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں مذاکرات کار طاہر بٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تا ہم ان کا نمبر بند جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں