اسلام آباد( وقائع نگار)پاکستان کو مشکل معاشی صورتحال کا سامنا ، تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے عام انتخابات کا انعقاد ضروری ہے ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملک بھر کے 54 چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور اور کاروباری برادری کے نمائندوں کی ملاقات ،ملاقات میں کراچی، لاہور، فیصل آباد، سرحد اور راولپنڈی چیمبرز آف کامرس اور فارماسیوٹیکل سیکٹر کے نمائندے بھی موجود تھے ،صدر مملکت نے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ پارلیمنٹ، عدلیہ، حکومت اور تاجر برادری کو ملک کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور حل کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، ملک میں سیاسی، معاشی اور مالی استحکام لانے کے لیے عزم کے ساتھ مسائل حل کرنا ہوں گے، پاکستان میں جمہوریت کو ہر گزرتے دن کے ساتھ برقرار اور مضبوط ہونا چاہیے،پاکستان کو مشکل معاشی صورتحال کا سامنا ، تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے عام انتخابات کا انعقاد ضروری ہے ، سیاسی، معاشی اور مالیاتی محاذوں پر قوم کو درپیش مسائل کے حل کیلئے مینڈیٹ کی حامل نمائندہ حکومت ہی اہم اور مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط اہم ہیں، مالی اور اقتصادی مشکلات حل کرنے میں مدد ملے گی، عوامی مینڈیٹ کی حامل نمائندہ حکومت ہی پاکستان کے عوام کو مشکل فیصلوں پر رضامند کرسکتی ہے ، ملک میں سیاسی استحکام مالی اور اقتصادی استحکام کے لیے بنیادی اور اہم ترین عنصر ہے ، انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو عام انتخابات کے انعقاد کے لیے متفقہ تاریخ کے تعین کیلئے مذاکرات اور غور و خوض کی ضرورت ہے ، صدر مملکت نے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے کے ارادے کو سراہا سیاسی قوتیں اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ، قوم کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جمہوری طریقہ کار اپنائیں ، ملک کا زیادہ تر درآمدی بل توانائی کی پیداوار اور نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے، بجلی ، پانی اور گیس کے تحفظ کی ایک ہمہ جہت حکمت عملی اپنا کر درآمدی بل کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، توانائی کی بچت کا حکومتی منصوبہ قابل عمل ہے اور کاروباری برادری کے عزم اور تعاون کی ضرورت ہے ، پاکستان نے کورونا وبا پر صحیح وقت پر درست فیصلے کر کے قابو پایا ، سیاسی، اقتصادی اور مالیاتی محاذوں پر قوم کو درپیش مسائل کیلئے بھی اتفاق رائے پر مبنی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ، خواتین چیمبر آف کامرس خواتین کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں مدد کریں ،پاکستان میں نچلی سطح پر کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، کاروباری برادری کام کرنے والی خواتین کو ہراسانی سے پاک ماحول کی فراہمی کیلئے اقدامات کرے ، خواتین کی شمولیت اور انہیں مالیاتی طور پر بااختیار بنانا پاکستان کی ترقی کیلئے اہم ہے، خصوصی افراد کو معاشی دھارے میں شامل نہیں کیا گیا ، انہیں فائدہ مند روزگار دینے کی ضرورت ہے ، پاکستان میں بچوں کی پرائمری سکولوں میں داخلے کی شرح مایوس کن ہے ، عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پرائمری اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی شرح صرف 68 فیصد ہے بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بچوں کے داخلے کی شرح 98 فیصد سے زیادہ ہے، پرائمری اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی کم شرح سنگین صورتحال ہے ، ملک کے ٹرسٹ قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ ٹرسٹ کی رجسٹریشن کو آسان بنایا جا سکے ، تاجر برادری کے ٹیکس ، امپورٹ کلیئرنس اور لائنز آف کریڈٹ کے حوالے سے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کیلئے مشاورتی عمل شروع کیا جائے ، ملاقات کے دوران تاجر برادری کے نمائندوں نے ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور موجودہ مالیاتی مسائل پر قابو پانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کی صدر مملکت کو کاروباری برادری کی جانب سے ملکی بندرگاہوں پر جان بچانے والی ادویات بنانے کے لیے استعمال ہونے والے خام مال کی عدم کلیئرنس کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔















