اہم خبریں

دس برسوں میں موسمی تغیرات کے باعث دنیا کی معیشت کو 2.5 ٹریلین ڈالر کا نقصان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینیٹ آف پاکستان ،پارلیمنٹری ڈویلپمنٹ یونٹ (پی ڈی یو) کی جانب سے ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے تعاون سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں موسمی تغیرات کے مضر اثرات ، معیشت پر پڑنے والے اثرات اور ان کی روک تھام اور حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے پارلیمنٹرین کی آگاہی کیلئے سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ موسمی تغیر ات کی وجہ سے جو موسمی تبدیلیاں آئی ہیں ان کی مثال نہیں ملتی ۔ پاکستان نے موسمی تغیر ات کی بھاری قیمت ادا کی ہے ۔2022 کے سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ، لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ اور بے شمار جانی و مالی نقصان ہوا ۔ ہمیں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ سکولوں کے نصاب میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے مضامین کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے مستقبل کو ماحولیاتی محاذ پر درپیش مسائل سے آگاہ کیا جا سکے اوربچوں کو بھی اس حوالے سے تربیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔ انہوں نے کہا بچوں میں شجرکاری، ماحولیاتی آلودگی کوکم کرنے ، پانی کے منصفانہ استعمال کی اہمیت اجاگر کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو موثر انداز میں استعمال میں لا کر موسمی تغیر ات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ سیمینار اپنی سفارشات مرتب کرکے ایک جامع رپورٹ تیار کر کے ایوان میں پیش کرے گا تاکہ موسمی تغیر ات کے حوالے سے پالیسی میں ان سفارشات کو شامل کرایا جا سکے ۔سیمینار کا آغاز سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمد خان کے استقبالیہ پیغام سے ہو ا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمی تغیرات سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے ۔پاکستان سمیت دنیا بھرمیں موسمی تغیرات کے مضر اثرات مرتب ہوئے اور حالیہ 2022کے سیلاب میں پاکستان کا شدید جانی ومالی نقصان ہوا۔موسمی تغیرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ آج کا سیمینار بھی اسی کی ایک کڑی ہے تاکہ اس کے مضرا ثرات بارے آگاہی حاصل کی جا سکے ۔چیئرپرسن سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمی تغیر ات سینیٹر سیمی ایزدی نے اپنے تعارفی کلمات میں گلوبل نارتھ کے جوابدہی کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ کم ترقی یافتہ ممالک کو اس وقت اپنے موسمی تغیر ات کے مضر اثرات کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جو اس کے ذمہ دار ہیں اور مختلف عالمی فورمز پر وعدے کیے ہیں ان کو پورا کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو گلوبل وارمنگ کے نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسے عالمی انصاف کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمی تغیر ات سے متاثر ہونے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے ۔ موسمی تغیر ات میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم جبکہ کے منفی اثرات بہت زیادہ ہیں ۔کراچی ، بدین ، ٹھٹھہ ویگر علاقوں کی زمین سمندر برد ہو رہی ہے ،پیداوار کی کمی بھی اسی وجہ سے ہے ۔ جنگلات تباہ ہو رہے ہیں ۔ غیر متوقع بارشیں اور لمبی گرمیوں کا موسم بھی موسمی تغیر ات کی وجہ ہے ۔ ہمیں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا ۔پاکستان کو ان چیلنجز سے نمبردآزما ہونے کیلئے بین الاقوامی امداد کی اشد ضرورت ہے ۔ گزشتہ حکومت نے موسمی تغیرات کو کم کرنے کیلئے اربوں درخت لگائے ۔ امریکہ نے ہمیں جنگلات کا چمپیئن قرار دیا ۔گرین انرجی پر بھر پور توجہ دینا اور نئے ڈیمز بنانا ناگزیر ہے ۔ڈائریکٹر پالیسی اینڈ گورننس، ڈبلیو ڈبلیو ایف ڈاکٹر عمران خالد نے پالیسیوں کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کو درپیش ماحولیاتی خطرات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمی تغیر ات سے ہونے والے نقصانات پر عالمی انصاف کا مطالبہ کرتا ہے اور ترقی یافتہ ممالک اپنے وعدوں پر عمل کریں۔ ضروری ہے کہ ہم خود انحصار ہوں اور نقصان پر قابو پانے کے لیے خود فیصلے کریں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حماد نقی خان نے کہا کہ پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے متبادل توانائی کے وسائل کی طرف اہم تبدیلی لانی چاہیے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ پاکستان اس تناظر میں چین سے جدید ترین ٹیکنالوجی پر بات چیت کرے جو قابل تجدید توانائی کے وسائل میں عالمی رہنما ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپنی بقا کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم ہسپتال کے فضلے کے انتظام، جنگلات کے انحطاط اور قابل تجدید توانائی سے متعلق پالیسیاں بنائیں اور ان پر عمل کریں۔ اراکین سینیٹ کے سوال کے جواب میں سیمینار میں بتایا گیا کہ ماحولیات آلودگی میں امریکہ ، یورپ ، چین ، روس اور انڈیا کا زیادہ کردار ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں تناسب بہت کم ہے جبکہ پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، پھر بھی یہ ضروری ہے کہ ہماری بقا کو یقینی بنانے کے لیے موثر پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے سیمینار میں بتایا کہ ہمیںیہ طرز زندگی تبدیل کرنا ہوگا ۔ گزشتہ 40 برسوں میں موسمی تغیر ات کی وجہ سے قدرتی آفات میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ دہائی میں پوری دنیا کی معیشت کو 2.5 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا جو اس سے پچھلی دہائی میں صرف1.5 ٹریلین تھا ۔موسمی تغیر ات سے نمٹنے کیلئے علاقائی ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ 2015 میں موسمی تغیر ات کے حوالے سے ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں ٹمپریچر میں اضافہ 1.5 ڈگری تک محدود رکھنا تھا مگر وہ 2 فیصد سے بھی بڑھا گیا ہے ۔مختلف ممالک جو توانائی کیلئے کوئلے پر انحصار کر رہے ہیں اس کو تبدیل کرنا ہوگا ۔ ترقی پذیر ممالک کیلئے مالی امداد اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔ موسمی تغیر ات سے نمٹنے کیلئے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے ۔پیرس معاہدے کے حوالے سے کیا شرائط تھیں ان کو دیکھا جائے ۔ ہوائی آلودگی کو کم کرنے کیلئے الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہوگا۔سیمینار کے آخری میں اراکین سینیٹ کے موسمی تغیر ات کے حوالے سے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے حکام نے سوالات کے تفصیلی جوابات بھی دیئے ۔سیمینار میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی، سینیٹر محمد اسد علی جونیجو، سینیٹر سید علی ظفر، سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر طاہر بزنجو، سینیٹر پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی، سینیٹر فوزیہ ارشد، سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر دانش کمار، سینیٹر روبینہ خالد، سینیٹر نسیمہ احسان، سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر فیصل جاوید، سینیٹر ذیشان خانزادہ، سینیٹر کیشو بائی، سینیٹر عابدہ محمد عظیم، سینیٹر سردار محمد شفیق ترین، سینیٹر سیمی ایزدی، سینیٹر خالدہ سکندر میندھرو، سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری، سینیٹر صابر شاہ، سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمد خان اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے حکام نے شرکت کی ۔

متعلقہ خبریں