اہم خبریں

ہم قرضے سات سال میں 130 ارب ڈالر پر لے گئے ، حفیظ پاشا

لاہور(خبرنگار) سابق وفاقی وزیر تجارت و وزیر خزانہ اور معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے پیاف مجلس عاملہ سے معیشت کی بہتری بارے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کی شرح نمو1990 تک انڈیا اوربنگلہ دیش سے دوگنا تھی اور آج اس کے بالکل برعکس ہے گزشتہ دس برسوں میں غلط پالیسیاں فالو کی گئیں۔ ہم نے قرضوں کا بوجھ تیزی سے ڈالنا شروع کر دیا، ہمارا بوجھ 2014 تک 50 ارب ڈالر،تھا لیکن سات سال میں 130 ارب ڈالر پر لے گئے جو زوال کی بڑی وجہ بنی جب بوجھ دوگنا ہوتا گیا ہم ایسے قرضوں میں پھنس گئے جن کی واپسی مشکل ہوتی گئیامپورٹ کو اہستہ آہستہ کھولنا چاہئیے اس وقت ہم بنگلا دیش اور ہندوستان سے بھی نیچے ہیں ایک وقت ایسا تھا کہ ہم برآمدات تیزی سے بڑھ رہی تھیں اورآج تک ہم اپنے ایکسپورٹرز سے ایک فیصد ٹیکس لیتے ہیں جو کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا۔ ڈومیسٹک سیلز کی زیرو ڑیٹنگ کر دی جائے۔ہم نے یہ مشہورہ دیا تھا ایکسچینج ریٹ اوور ویلیو ہو گیا ہے بجلی میں آپ نے صنعت کو بجلی کا ٹیرف کم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوئی ہندوستان میں ایکسپورٹ کرنے والوں کو دو سے بیس فیصد تک کیش میں فائدہ دیا جاتا تھا۔کرنسی کو اوور ویلیو کیا ہے اس وقت کرنسی کی اصل قیمت 295 روپے ہے ہم اس وقت پاکستانی روپے کو 230 روپے کے نیچے رکھے ہوئے ہیں ہمارے غیر ملکی امدن میں انیس فیصد کمی ائی ہے ایل سی کھولنے پر فیزیکل رسٹریکشن وزارت خزانہ کی بہت بڑی غلطی ہے۔ ہزاروں کنٹینرز اس وقت کراچی پورٹ پر کھڑے ہیں۔کم از کم پندرہ فیصد ایکسچینج ریٹ کو برھانا چاہئیے کرنسی کے اس فرق کی وجہ سے ترسیلات زر میں کمی ہو رہی ہے۔ ٹیکس کا نظام اس قدر بگڑا ہوا کہ حیرت ہو گی انڈسٹری کا شئیر معیشت کا 19% ہے ٹیکس کی ادائیگی میں انڈسٹری کا شئیر 72 % ہے اس شرح سے کیسے انڈسٹری پروان چڑھے گی۔ شراعت کا شئیر ٹیکس کی امدنی میں 3% ہے جبکہ معیشت مین زراعت کا حصہ 22 % ہے۔ 2010 کی زرعی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ایک فیصد زمینداروں کے ہاتھ میں 22 فیصد پاکستان کی زمین ہے پاکستان کے 80 ہزار بڑے زمینداروں کی سالانہ آمدنی 900 ارب روپے ہے اور ٹیکس صرف 3 ارب روپے دیتے ہیں۔ ایلیٹ کلچر اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

متعلقہ خبریں