اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے سابق سیکرٹری کیپٹن (ر)شیر عالم محسود مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد آزاد جموں و کشمیر کونسل سیکریٹریٹ اسلام آباد میں کیا گیا۔ تعزیتی ریفرنس میں مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ، معاون خصوصی امور کشمیر و گلگت بلتستان نوابزادہ افتخاراحمد خان بابراور پارلیمانی سیکرٹری آمور کشمیر و گلگت بلتستان سید ابرار حسین شاہ کے علاہ شیر عالم محسود کے بھائی محمود عالم محسود بیٹے مصطفی محسود اور متعدد وفاقی سیکریٹریز اور ان کے کورس میٹس نے شرکت کی۔تعزیتی ریفرنس کے موقع پر مشیرامور کشمیر قمر زمان کائرہ نے اپنے تعزیتی کلمات میں شیر عالم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کی اچانک وفات ناقابل یقین ہے اور آج کے اس تعزیتی ریفرنس میں ہم بڑے بھاری دل سے ان کے ساتھ بتائے لمحوں کو یاد کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزارت کا منصب سنبھالتے ہی ان کی شیر عالم صاحب کے ساتھ ایک دوستانہ تعلق استوار ہوگیا اور متعدد دفتری معملات پر ہم ایک دوسرے سے متفق ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شیر عالم صاحب بغیر کسی جھجک کے سیدھی اور کھری بات کرتے تھے جوکہ ایک مخلص انسان کی بڑی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شیر عالم صاحب سے دفتری امور کے علاوہ ملکی و سیاسی امور پر بھی گفت و شنید ہوتی رہتی تھی جس میں انہوں نے ہمیشہ شیر عالم محسود کو ملک سے متعلق انتہائی فکرمند پایا۔ قمر زمان کائرہ نے دعا کی کہ اللہ رب العزت شیر عالم محسود مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے خاندان کو یہ بڑاسانحہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نوابزادہ افتخار احمد خان بابر نے کہا کہ انہوں نے شیر عالم صاحب کے ساتھ بڑے مختصر لمحات گزارے اور آج جس طرح ان کے بارے میں جاننے کا موقع ملا ہے تو دل ہی دل میں ایک خواہش باقی رہ گئی ہے کہ کاش ان جیسی عظیم شخصیت کی اور قربت حاصل ہوتی۔پارلیمانی سیکرٹری امور کشمیر سید ابرار حسین شاہ نے کہا کہ شیر عالم محسود ایک دلیر افسر تھے اور میری ان سے جان پہچان صرف چند مہینوں کی تھی لیکن ان سے مل کے ہمیشہ محسوس کیا کہ جیسے میں اور وہ دہائیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔تعزیتی ریفرنس میں سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، سیکرٹری سیفران پرویز احمد جونیجو، سیکرٹری پلاننگ سید ظفر علی شاہ، سیکرٹری ہاوسنگ افتخار علی شلوانی،ایڈیشنل سیکرٹری آمور کشمیر و گلگت بلتستان ظہور احمد، سینئر جوائنٹ سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر کونسل سمیع اللہ خان، جوائنٹ سیکریٹری گلگت بلتستان کونسل ساجد چوہان کے علاہ شیر عالم محسود کے بھائی، بیٹے اور بیسویں کامن سے تعلق رکھنے والے ان کے متعدد کورس میٹس نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر شرکا نے اپنے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیر عالم محسود کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ انتہائی ایماندار، بہادر، کھرے اور قانون و ضابطے کے پابند افسر تھے، انہوں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ وہ دوستوں کے دوست تھے اور ہر محفل میں ان کا ایک امتیازی مقام ہوتا تھا، شیر عالم محسود کے ساتھیوں اور بیج میٹس نے کہا کہ ان کو متعدد بار شیر عالم محسود کے ساتھ مختلف جگہوں پر کام کرنے کا موقع ملا اور ہمیشہ ان کو اپنے اصولوں کا پابند پایا، اس کے علاہ وہ ملک اور عوام کی بہت فکر رکھتے تھے اور مختلف انتظامی تعیناتیوں میں مشکل میں گھرے غریب عوام کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی، ان کا اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھی خصوصی تعلق ایسا تھا کہ آج سے تیس سال قبل ان کے ساتھ رہنے والے ملازمین آج بھی ان سے رابطے میں تھے جس سے ان کی عظیم شخصیت کی کھلی عکاسی ہوتی ہے، اس کے علاہ شیر عالم اپنی روایات کے ساتھ جڑ ی شخصیت تھی اور ان کی کمی کوان کے چاہنے والے شدت سے محسوس کریں گے، شیر عالم محسود کے بھائی محمود عالم اور بیٹے مصطفے محسود نے تعزیتی ریفرنس کے انعقاد اور شرکا کے ہمدردانہ جزبات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ شیر عالم محسود کی بتائی ہوئی باتوں اور اصولوں پر عمل پیرا رہ کر ان کی یادیں ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ زندہ رکھیں گے۔















