اہم خبریں

ہماری خواہش ہے کراچی کا میئر اتفاق رائے سے لایا جائے، شازیہ مری،فیصل کریم کنڈی

اسلام آباد (نامہ نگار )وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری اور وزیر مملکت و ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلاب کی وجہ سے ہمیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر تحفظات تھے تاہم ہم نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ مانا اور ہم الیکشن میں گئے،پیپلز پارٹی لارجسٹ پارٹی کے طور پر سامنے آئی،کراچی کے نتائج پر پی ٹی آئی بیٹھ کر ماتم کرے،ہماری خواہش ہے کراچی کا میئر اتفاق رائے سے لایا جائے، پیپلز پارٹی نے ان 14 ایم این ایز کے منہ پر تھپڑ رسید کیا جو جعلی طور پر سلیکٹ ہوکر کراچی سے آئے تھے، آج ہمارے لئے یوم نجات اس لئے بھی ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کانپتے ہاتھوں کیساتھ کے پی اسمبلی توڑ رہے ہیں، یہ کس منہ سے الیکشن لڑیں گے جس صوبے میں ہم نے امن قائم کیا وہاں دوبارہ بد امنی ہے، یہ واحد صوبہ خیبرپختونخوا دیوالیہ ہوگیا ہے ، اب سلیکشن نہیں الیکشن ہونگے،8. 6ملین خاندانوں کو مالی امداد مل رہی ہے ،ہم اس کو 10. 5ملین تک لے جائینگے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے سندھ کے بیشتر علاقوں میں عوام بڑی تکلیف میں ہیں،لوگوں کے تاحال گھر نہیں بنے، لوگ مشکلات میں ہیں،تین کروڑ تیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے۔ابھی کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہے ،الیکشن کا فیصلہ ہوا ہم الیکشن میں گئے، پیپلز پارٹی سیلاب کی وجہ سے الیکشن کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کررہی تھی ۔ایک پارٹی نے الیکشن میں بہت غنڈا گردی کی ہےان لوگوں کو سمجھ آجانا چاہیے کہ الیکشن سروے سے نہیں جیتا کا سکتاالیکشن گراؤنڈ پر لڑا جاتا ہے، کراچی حیدرآباد کی باشعور عوام نے اپنےووٹ کا حق استعمال کیااگر عوام ان کو ووٹ نہ دیں تو کہتے ہیں بے شعور لوگ ہیں اور دھاندلی ہوئی ہےاگر عوام انہیں ووٹ دے دے تو کہتے ہیں شعور آگیا ہے،اب پی ٹی آئی بیٹھ کر ماتم کرے۔جنرل الیکشن میںکراچی کے رزلٹ تین دنوں بعد آئے،چار سال تک جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا ووٹ پیپلز پارٹی کی محنت کا نتیجہ ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کی محنت کا نتیجہ ہے، پیپلز پارٹی نے لوگوں کو ڈیلور کیا جس کا عوام نے بدلہ ووٹ میں ملا ہے۔ ووٹ ہمیشہ عزت و انکساری سے ملتے ہیں ،دھونس دھاندلی سے نہیں۔ہماری خواہش ہے کراچی کا میئر اتفاق رائے سے لایا جائے تاہم پی پی کی اکثریت کو آپ نظر انداز نہیں کر سکتے ۔پی پی کا کمایا ہوا ووٹ کچھ لوگوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے ،وہ سمجھ جائیں کہ ہم نے ووٹ چرایا نہیں۔شازیہ مری نے کہا کہ مردم شماری پر پیپلزپارٹی کے تحفظات تھےالیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اس کے حکم پر عملدرآمد کرنا ضروری ہےپیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کی وجوہات سب کے سامنے ہیں ہم اس وقت ایک اتحادی حکومت کیساتھ ہیں مختلف نظریات کے باوجود قومی مفاد کے لیے اکٹھے ہیں۔ایم کیو ایم ہماری ساتھی جماعت ہے،تعلقات بہتر ہونگے،ملک الزامات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت پر بحث ہونی چاہیئے۔8. 6ملین خاندانوں کو مالی امداد مل رہی ہے ،ہم اس کو 10. 5ملین تک لے جائینگے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آج پیپلز پارٹی نے ان 14 ایم این ایز کے منہ پر تھپڑ رسید کیا جو جعلی طور پر سلیکٹ ہوکر کراچی سے آئے تھے، پی ٹی آئی بڑے بڑے دعوے کرنے والی خود آپس میں لڑ پڑی ہے، آج ہمارے لئے یوم نجات اس لئے بھی ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کانپتے ہاتھوں کیساتھ کے پی اسمبلی توڑ رہے ہیں، یہ کس منہ سے الیکشن لڑیں گے جس صوبے میں ہم نے امن قائم کیا وہاں دوبارہ بد امنی ہے، یہ واحد صوبہ خیبرپختونخوا دیوالیہ ہوگیا ہے جہاں دس سال سے ان نالائقوں کی حکومت تھی ،جنیوا میں دس ارب ڈالر ملتے ہیں تو پی ٹی آئی کو تکلیف ہوتی ہے مودی کو سخت زبان میں وزیر خارجہ جواب دیں تو بھی آر ایس ایس کی طرح پی ٹی آئی کو تکلیف ہوتی ہے، جس طرح حیدر آباد اور کراچی کے لوگوں نے آپ سے بدلا لیا ویسا ہی خیبر پختونخوا کے لوگ پی ٹی آئی سے لیں گےپی ٹی آئی کو ہار نظر آرہی ہے اور اب الزامات لگا رہی ہے،عوام اب عمران سے بدلہ لینگے،اب سلیکشن نہیں الیکشن ہونگے۔انہوں نے کہا کہ عمران ڈرپوک انسان ہے جو زمان پارک سے باہر نہیں نکل رہا۔اگر گولی لگی ہے تو کمیشن کیوں نہیں بناتے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی بے نظیربھٹو انکم سپورٹ پروگرام میں پیسوں میں کٹوتی نہیں ہوگیااگر کہیں پیسوں کی کٹوتی ہو تو اس بارے آگاہ کیا جائے ایکشن لیا جائیگا۔55ارب روپے عوام میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ دوصوبوں میں انتخابات لڑنے کیلئے پی ڈی ایم اور اتحادی حکومت ملکر فیصلہ کریگی۔

متعلقہ خبریں