کراچی(نیوز ڈیسک) بلدیاتی الیکشن کے بعد دوسرے مرحلے کیلئے جوڑ توڑ شروع، شہر قائد کا میئر کون ہو گا؟ سیاسی جماعتوں نے سرجوڑ لئے ۔ ایم کیوایم کے بائیکاٹ کے بعد جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی سے رابطے میں ہیں اور جلد اتفاق رائے سے جیالا کراچی کا میئر ہوگا۔ جبکہ ایم کیوایم کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کے باوجود میئر ایم کیوایم کا ہی ہوگا۔۔ دوسری جانب بلدیاتی انتخابات کے 235 یونین کونسلز مکمل نتائج جاری کر دئیے گئے، پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ 93 نشستیں حاصل کیں، جماعت اسلامی 86 نشستوں کےساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ پی ٹی آئی 40 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے تیسری پوزیشن پر آگئی۔
پی پی پی 93 یوسیز پر کامیاب ہو کر 32 خواتین کی مخصوص نشستیں حاصل کرے گی، پی پی پی کو نوجوانوں، اقلیت اور لیبر کی 5، 5، خواجہ سرا اور معذور افراد کی ایک، ایک نشست ملے گی۔جماعت اسلامی 133 نشستوں کے ساتھ ایوان کی دوسری بڑی جماعت ہو گی،
نتائج کے مطابق ن لیگ 7، جے یو آئی اور آزاد امیدوار تین، تین، ٹی ایل پی نے 2 نشستیں حاصل کیں، بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد ممکنہ مخصوص نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی 142 نشستوں کے ساتھ ایوان کی سب سے بڑی جماعت ہو گی۔
جماعت اسلامی 86 یوسیز پر کامیاب ہو کر 32 خواتین کی مخصوص نشستیں حاصل کرے گی، جماعت اسلامی کو نوجوانوں، اقلیت اور لیبر کی 5، 5، خواجہ سرا اور معذور افراد کی ایک، ایک نشست ملے گی۔پی ٹی آئی کو 40 نشستوں پر 14 خواتین، 2 لیبر، 2 نوجوان اور 2 اقلیت کی نشستیں ملیں گی۔















