اہم خبریں

دھاندلی زدہ انتخابات جمہوری پارلیمانی نظام پرسیاہ دھبہ ہیں،لیاقت بلوچ

لاہور(نیوزڈیسک)نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ قومی انتخابات دھاندلی زدہ، متنازعہ اور جمہوری پارلیمانی نظام پر سیاہ دھبہ ہیں، جماعت اسلامی الیکشن دھاندلی پر وائٹ پیپر جاری کرے گی، نتائج مسترد کرتے ہیں، جمعہ کو احتجاج ہوگا، چیف الیکشن کمشنر دباؤ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے، مستعفیٰ ہوں۔ نگران وزیراعظم دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے ریفرنس دائر کریں۔

ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کے ہمراہ منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں تقسیم اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے، پولرائزیشن کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی قومی قیادت سے مرحلہ وار رابطوں کا آغاز کرے گی، استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں کو لانگ پارٹنر شپ کی جانب بڑھنا ہوگا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مجموعی طور پر 25لاکھ سے زائد ووٹ لیے جنہیں فارم 47میں کم کرکے قومی اسمبلی کے حلقوں میں 14لاکھ کے قریب اور صوبائی حلقوں میں 17لاکھ سے کم کردیا گیا۔

انہوں نے کہا جماعت اسلامی نے اپنے منشور اور انتخابی نشان پر کسی پارٹی سے اتحاد کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا،ہمیں بڑے پیمانے پر ووٹ ملے،کراچی اور کے پی میں ہمارے امیدواران کو دھاندلی سے ہرایا گیا،اس کے باوجود بھی ہم سمجھتے ہیں کہ قوم نے اعتماد کر کے جماعت اسلامی کی قومی خدمت کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے، عوامی رابطہ مہم تیز کریں گے۔

نائب امیر کا کہنا تھا کہ عوام کے چوری شدہ مینڈیٹ سے جو حکومت قائم ہوئی وہ عالمی استعماری قوتوں کی بلیک میلنگ کا شکار ہو گی۔دھاندلی زدہ الیکشن سے ملک و ملت کے لیے بڑے خطرات پیدا ہو گئے ہیں،جیتے ہوئے پریشان ہیں،ہارے ہوئے لوگوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی،تیس چالیس حلقوں کو ٹارگٹ کرنے،پینتیس پنکچر ز،فارم پنتالیس،آر اوز فارمولے دہرائے گئے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت تنہا کچھ نہیں کر سکتی،ایک ٹولہ ہے جو جاگیرداروں،بڑے سرمایہ داروں اور دینی محاذ پر چند طبقات کی صورت میں عوام پر عرصہ دراز سے مسلط ہے۔جماعت اسلامی آئین،قانون اور عوام کی حکمرانی کے لیے جد وجہد جاری رکھے گی۔

مزیدپڑھیں:

انہوں نے کہا کہ موجود سیاسی تناظر میں مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کو بھلا دیا گیا،عوام پر مہنگائی کے کوڑے برس رہے ہیں،ہم مظلوم طبقات کے حق کے لیے ہر فورم پر بھر پور آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں شائستگی کے کلچر کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئندہ پارلیمنٹ کو نگران کلچر کے پورے ڈیزائن کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو غیر مشروط طور پر پلیٹ فارم مہیا کیا تھا،آخری لمحے پر ان کی جانب سے موقف تبدیل کیا گیا۔

متعلقہ خبریں