اسلام آباد ( اے بی این نیوز )سائفر کے معاملےپر دیگر ممالک کیساتھ تعلقات پر اثر پڑا جس سے دشمنوں کو فائدہ ہوا، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود ٹرائل میں تاخیر کیلئے چھپن چھپائی کھیلتے رہے،خود ساختہ پریشانیاں بنائیں، ہمدردیاں لینے کیلئے بےیار و مددگار بننے کی کوشش کی،
جج ابو الحسنات نے 77صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے کہابطور وزیراعظم بانی پی ٹی آئی کی ذمے داری تھی کہ سائفر واپس لوٹاتے،اب تک بانی پی ٹی آئی نے سائفر واپس نہیں کیا،دونوں مجرمان نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا،بطور وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اپنے عہدے کی خلاف وزری کی جس نے پاک امریکہ تعلقات کو نقصان پہنچایا، 25 گواہان کا بیان قلمبند کیا گیا،اعظم خان کے سچائی پر مبنی بیان نے پراسیکیوشن کے دلائل کو مضبوط بنایا،
17ماہ کی تحقیقات سے ثابت ہوا مقدمہ تاخیر سے دائر نہیں کیاگیا، سماعت میں وکلا صفائی نے غیر سنجیدگی دکھائی،27جنوری کو سرکاری وکیل موجود،وکلاصفائی غیر حاضر تھے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود نے سرکاری وکیل کے ساتھ بدتمیزی کی، فائل پھینکی،وکلا صفائی کے پہنچنے پر جرح کی تیاری کیلئے وقت دیاگیا،جب جرح کا کہا تو وکلا صفائی نے انکار کردیا جس کے بعدسرکاری وکیل نے جرح کی















