ڈیووس(نیوزڈیسک)نگران وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ نے عالمی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد امریکی اسلحہ بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوا جو غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ لگ گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ہمارے خطے بلکہ مشرق وسطی پر بھی مضمرات مرتب ہوں گے، یہ اسلحہ رقوم کےلیے تمام غیرریاستی عناصر کو فروخت کیا جائے گا۔ عمران خان اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے جیل میں نہیں بلکہ 9 مئی کے فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے اور اپنے کارکنوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کیوجہ سے جیل میں بند ہیں، الیکشن 8 فروری کو اپنے وقت پر ہوں گے، پاکستان میں عبوری جمہوریت ہے اور عبوری جمہوریتوں کو داخلی چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔نگران وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ نے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے دوران عالمی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم ایک مثالی جمہوریت میں رہ رہے ہیں۔ تاہم کچھ خدشات موجود ہیں، ہم جتنا ہو سکے گا کوشش کریں گے کہ لوگوں کو اپنی مستقبل کی قیادت کے انتخاب کا موقع فراہم کریں،اگر آپ موازنہ کریں تو غالباً مغربی میڈیا پر پاکستانی میڈیا سے زیادہ پابندیاں ہیں۔ انتخابات میں بین الاقوامی مبصرین ہوں گے، میڈیا اس کی رپورٹنگ کرے گا جس سے پتہ چل جائے گا کہ الیکشن دھاندلی زدہ ہوئے یا شفاف، پاکستان میں میڈیا مغربی ممالک سے زیادہ آزاد ہے۔انوار الحق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے رویے سے قانون سے نمٹا جاتا ہے، جیسا کہ امریکا میں کیپیٹل ہل پر حملے میں ملوث افراد کے ساتھ سلوک کیا گیا۔ تحریک انصاف لوگ بے گناہ نہیں بلکہ جلاؤ گھیراؤ میں ملوث لوگ جیل میں ہیں، تو میں اسے ناانصافی نہیں سمجھتا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہانہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی ہونی چاہیے، یہ غیر ریاستی عناصر جہاں کہیں بھی ہوں، ان سب کو غیرقانونی قرار دے کر حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، ان کی معاشی سمیت تمام سرگرمیوں پر پابندی لگانی چاہیے۔















