اسلام آباد(نیوزڈیسک)ایرانی سکیورٹی فورسز کا پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دفتر خارجہ نے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے شدید احتجاج کیا ، دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے ، جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اور ان نتائج کی ذمہ داری ایران پرعائد ہوگی،ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی خطے کے ممالک کیلئے مشترکہ خطرہ ہے جس کیلئے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے ۔ اس طرح کی یکطرفہ کارروائیاں اچھے ہمسایہ تعلقات کیلئے بہتر نہیں ، دوطرفہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ پاکستانی فضائی حدود میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہوئی تھیں۔
????: PR NO. 1️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣4️⃣
Pakistan’s Strong Condemnation of the Unprovoked Violation of its Air Space
????⬇️https://t.co/TAWRqC7qMy pic.twitter.com/oqi3tvAOso
— Spokesperson ???????? MoFA (@ForeignOfficePk) January 16, 2024
یہ بات اور بھی تشویشناک ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز موجود ہونے کے باوجود یہ غیرقانونی عمل ہوا ۔پہلے ہی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ میں متعلقہ سینئرعہدیدار کے پاس شدید احتجاج درج کروا چکا ہے ۔ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئےتھے۔ایرانی سرکاری ٹی وی نور نیوز کی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جیش العدل نامی تنظیم کے دو ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔















