اہم خبریں

کسی کے ساتھ بھی ایساسلوک ٹھیک نہیں جوشاہ محمودکیساتھ کیاگیا،خواجہ آصف

اسلام آباد ( اے بی این نیوز   ) ن لیگ کے راہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کسی کے ساتھ بھی ایساسلوک ٹھیک نہیں جوشاہ محمودکیساتھ کیاگیا،ایسارویہ اختیارکرناکسی صورتحال قابل قبول نہیں،میں پولیس کے اس طرح کےبرتاؤ کے خلاف ہوں،میں بہت بار گرفتار ہوا ہوں،گرفتاری کے وقت کبھی بھی مزاحمت نہ کرے،مجھے بھی پی ٹی آئی کے دورمیں گرفتار کیاگیا،ہمارے سیاستدانوں کووقت رآوازاٹھانی چاہیے،ہماری سیاست کایہ المیہ ہے ہمارابھی ماضی میں مذاق اڑایاجاتاتھا،وہ اے بی این کے پروگرام سوال سے آگے میں اظہار خیال کر رہے تھے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دورمیں توہماری نقلیں اتاری جاتی تھیں،ہماراروڈمیپ بھی کچھ دنوں میں آجائے گا،ہمارا2013سے2017کادورروڈمیپ ہی تھا،،ہم اپناپچھلاروڈمیپ اپ ڈیٹ کریں گے،سواسال کی حکومت میں شہبازشریف وزیراعظم تھے،،ہمیں مخلوط حکومت کے دوران بہت سے چیلنجزکاسامناتھا،ہم تعلیم،صحت اورانرجی ڈیپارٹمنٹ پرخصوصی توجہ دیں گے،پیپلزپارٹی کی سندھ میں15سال حکومت رہی عوام کوکیاملا؟،بلے کے نشان کے حوالے سے میں نے کوئی کمنٹ نہیں کرنا،جوبھی قانونی معاملات ہیں اس پرمیرابولنانہیں بنتا،میرابولناصرف سیاسی معاملات پربنتاہے،الیکشن میں بہت سی پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں ہرایک کاووٹ بینک ہے،ہمارااصل مقابلہ تحریک انصاف سے ہوگا،2013اور2018میں صرف ن لیگ اور پی ٹی آئی میں مقابلہ ہوا،پاکستان استحکام پارٹی کیساتھ ہماری جماعت کےمذاکرات کے حوالے سے مجھے کچھ نہیں پتا،استحکام پاکستان کےساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملے کومیڈیامیں زیادہ اچھالاگیا،میں7بارالیکشن میں حصہ لے چکاہوں،ٹکٹوں کی تقسیم کامرحلہ آخری وقت تک ہوتاہے،2018میں ہمارے بہت سے رہنماؤں کونااہل کردیاگیاتھا،میاں نوازشریف کو2018کے الیکشن کیلئےنااہل کردیاگیا،یہ فیصلے ہماری سیاسی تاریخ کاحصہ ہیں،یہ ہماری سیاسی روایات ہیں۔بلاول بھٹوجس طرح کی باتیں کررہے ہیں سیاست میں ایساہوتاہے،سیاست میں تنقید کوبرداشت کیاجاتاہے،الیکشن کے دوران کاغذات نامزدگی کامرحلہ بڑا مشکل ہوتاہے،جنوری2024کےپہلےہفتے میں اپناپارٹی منشورپیش کریں گے،ہمیں عوام کے مسائل پرتوجہ دینی ہوگی،لوگ پریشانی کاشکارہیں،لوگوں کے مسائل حل کرنے کاجذبہ ہوناچاہیے،پاکستان میں بھی الیکٹرک بسیں ہونی چاہیے،نوازشریف ہی وزارت عظمیٰ کے امیدوارہوں گے،عرفان صدیقی نے جوبات کہی مجھےنہیں پتاکس پیراہے میں کہی،قوم کب تک 2018کے الیکشن کی قیمت ادا کرتی رہے گی؟،میدان کھلاہےجوبھی الیکشن لڑے گااسے خوش آمدیدکہیں گے،،میں نے عثمان ڈارسے کہاآپ کی جوبھی شکایات ہیں ان کوسامنے لایاجائے،،مجھ پر الزامات لگائے جارہے ہیں،میرے وکلانے آج انہیں نوٹس بھیج دیاہے،،2018میں میراعثمان ڈارسے1800ووٹوں سے جیتنابھی غنیمت تھا،،ہم نے کبھی نہیں کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈنہیں دیاجارہا،،ہم نے مشرف کے وقت بھی الیکشن لڑاتھا،،ہم نے بانی پی ٹی آئی اورپیپلزپارٹی کےدورمیں بھی الیکشن میں حصہ لیا۔

متعلقہ خبریں