اہم خبریں

امید ہے 2018 کے حادثے کا ری پلے نہیں ہو گا،احسن اقبال

لاہور(نیوزڈیسک)مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار اپنی متوقع شکست سے خوفزدہ ہیں، امید ہے کہ اب 2018 کے حادثے کا ری پلے نہیں ہو گا۔ملکی ترقی میں خواتین کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ کرنا ہے، زبان، نسل، مذہب کی بنیاد پر کسی سے تعصب نہیں برتا جانا چاہیے، مقامی حکومتوں کا نظام لا کر اس کے کردار کو مؤثر بنایا جائے، مقامی حکومتوں کیلئے ہم آئینی ترمیم بھی لانا چاہتے ہیں، وفاق اور صوبوں کے آپسی اور باہمی تعلقات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول بھی ہمارے منشور کا اہم حصہ ہوگا، ترقی کو محروم رہ جانے والے علاقوں تک پہنچانا ضروری ہے، تمام پاکستانی اس پورٹل پر جا کر اپنی تجاویز دے سکتے ہیں، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر باتیں کرنے کی بجائے مسائل کے حل کیلئے قابل عمل تجاویز دیں، چند دنوں میں تجاویز لے کر 2 جنوری تک منشور کا اعلان کر دیں گے۔لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابی عمل آغاز ہو چکا ہے، ہماری جماعت کا پارلیمانی بورڈ متعدد اجلاسوں میں امیدواروں کے نام فائنل کر رہا ہے، اور ہماری منشور کمیٹی بھی اپنا کام کر رہی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت اہم دوراہے پر کھڑا ہے، ہم نے منشور کو حتمی شکل دینے کے لئے پورٹل کا افتتاح کیا ہے، ہر پاکستانی ملکی مسائل کے حل کی تجاویز دے سکتا ہے، ہمارے منشور میں آئین کی حکمرانی، نظام قانون و انصاف میں اصلاحات لانا شامل ہے۔لیگی رہنما نے کہا کہ قانون فوجداری میں کیا ترامیم ہوں، ہم پوری قوم کو سے تجاویز مانگ رہے ہیں، معیشت، غربت و مہنگائی میں کمی، توانائی کے مسائل منشور کا حصہ ہوں گے، امور خارجہ، اوورسیز پاکستانیوں، کرپشن کا خاتمہ اور احتساب کا نظام کیسے ٹھیک ہو، ان تمام نکات کو منشور میں شامل کر رہے ہیں، تعلیم، آئی ٹی، صحت کے ماہرین ہمیں تجاویز دیں۔لیگی رہنما نے کہا کہ ترقی کے عمل کے لئے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنا ہے، سی پیک پاکستان کی قسمت بدل سکتا ہے، گذشتہ حکومت نے سی پیک کو سبوتاژ کیا ہے، اس منصوبے کو بحال کر کے 2030 تک سپیشل اکنامک زونز بنائے جائیں گے۔سیکرٹری جنرل ن لیگ نے کہا کہ میرے ساتھ تو کبھی کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا تھا، سربراہ ریاست کیلئے سکیورٹی ہوتی ہے جو عیاشی نہیں ضروری ہے، ہم حکومتی اخراجات میں مزید کمی لائیں گے، سول حکومت کے اخراجات 550 ارب اور قرضوں کی ادائیگی 5500 ارب سے زائد ہے۔

متعلقہ خبریں