لاہور ( اے بی این نیوز ) ماہر قانون اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ آپ کیسے کسی کے کاغذات چھین سکتےہیں،کاغذات چھننے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے،سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ سائفر کیس کچھ بھی نہیں،ریاست نےمجھے ایجوکیٹ کر کے کیاکیا؟ ،آپ کیسے ایک دستخط سے ڈسفرنچائز کرسکتے ہے،عدالتی رویہ وقت کیساتھ ساتھ تبدیل ہورہا ہے،بلے کا نشان کسی اورجماعت کو کیسے کوئی آفر کرسکتا ہے؟بلے کا نشان پی ٹی آئی سےتو لیا جاسکتا ہے لیکن کسی دوسری جماعت کونہیں دیا جاسکتا،توشہ خانہ کیس انتہائی کمزور کیس ہے،کاغذات چھیننا سمجھ سے بالا تر ہے،55سال سے سیاست میں ہوں ایسا کبھی بھی نہیں دیکھا،کاغذات چھیننے والوں کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے،بلے کا انتخابی نشان پی ٹی آئی کا انتخابی نشان ہے یہ ریسٹور ہو گا،یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ یہ کس کا نشان ہے، کسی بھی پارٹی کو انتخابی نشان نہ دینا ووٹرز سے ووٹ چھیننا ہے،بلے کا نشان کسی اور کو آفر کرنیوالا بہت بدبخت انسان ہے،بلے کا نشان پی ٹی آئی سے لیا جاسکتا ہے لیکن کسی اور کو دیا نہیں جا سکتا،بلے کا نشان اگر کسی اور پارٹی کو دیا گیا تو خانہ جنگی ہو سکتی ہے،توشہ خانہ کیس انتہائی کمزور کیس بنایا گیا ہے، پہلے سے ہی میرا کوئی ارادہ نہیں تھا اس الیکشن میں آنے کا۔















