پشاور(نیوزڈیسک)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نےکہا ہے کہ 8فروری سیاسی اسموگ کےخاتمے کادن، عوام ملک کو بچانے۔کےلیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں،صرف جماعت اسلامی سیاسی آلودگی کا خاتمہ کر کے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتی ہے، ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں غریب عوام کو سکون کا سانس آئے اور زندگی گزارنا آسان ہو۔ الیکشن کا دن عوام کےلیے یوم نجات اورتین بڑی سیاسی جماعتوں کےلیے یوم حساب ہو گا۔ان حکمران پارٹیوں نےفوجی گملوں میں پرورش پائی اورقوم کے 40سال ضائع کیے، یہی سیاسی جماعتیں اور جرنیلوں کی حکومتیں پاکستان کی آزادی، خودمختاری، قومی سلامتی، مہنگائی، بےروزگاری، معیشت کی تباہی، لاقانونیت، غربت میں اضافے کا باعث بنیں،انہی حکومتوں میں دو پاکستان سامنے آئے،ایک غریب کا دوسرا مراعات یافتہ اشرافیہ کا، 76برسوں میں ملک کو ایک دن بھی حقیقی جمہوریت اورقرآن و سنت کا نظام دیکھنےکو نہیں ملا، ان حکمرانوں نے ملک کو آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، امریکی ڈکٹیشن پر اتنا غلام ابن غلام بنا دیا کہ یہاں قومی زبان اردو کو رائج کر سکے اور نہ ہی سی ایس ایس کا امتحان قومی زبان میں لینے کے قابل ہوئے۔ ان سیاسی جماعتوں کے سابق حکمرانوں نے اقتدار میں آ کر ایک بار نہیں بار بار قوم کو دھوکا دیا، یہ خود ارب پتی بن گئے،ملک کھربوں روپے کا مقروض ہو گیا، پھر بھی کہتے ہیں ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی، کرپشن غریب رکشہ چلانے،چھابڑی لگانےوالے نے کی؟انہی حکومتوں کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو جو امت کے لیےکردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کر سکا۔ حالیہ فلسطین پر اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات سے 16 ہزار خواتین، مرد، بچے شہید ہو گئے لیکن ابھی تک 58اسلامی ممالک کے حکمران اس ظلم پرخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔جماعت اسلامی نے ملک بھرمیں اہل غزہ کےلیےاظہار یکجہتی کیا، لیکن تینوں سیاسی جماعتوں کو اہل فلسطین سےیکجہتی کےلیے جلسہ جلوس کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ان خیالات کا اظہارانھوں نے پشاور میں جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ کےزیر اہتمام قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرنائب امیرجماعت اسلامی لیاقت بلوچ، امیر خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم، سینیٹر مشتاق احمد خان، نائب امرا کے پی عنایت اللہ خان، مولانا اسماعیل خان، سیکرٹری جنرل کے پی عبدالواسع و دیگر بھی موجود تھے۔سراج الحق نےکہا کہ آئندہ انتخابات میں ایک پارٹی میں باپ اور دوسری پارٹی میں بیٹا ہو گا۔ انہی اشرافیہ کےشہزادوں شہزادیوں کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھنے کا موقع ملتا ہے، غریب آدمی تو ان ایوانوں کے قریب بھی نہیں جا سکتا۔ انہی سیاسی دہشت گردوں کی و جہ سے عوام غربت کے سمندر میں غوطہ زن ہیں، آٹا، چینی، چائے، ادویات، پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، انہی سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے ہے۔انھوں نے کہا کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو الیکشن کے قریب عوام کے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اقتدار میں آکر یہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو بھول کر آئی ایم ایف، ورلڈ بنک کی ڈکٹیشن پر چلتے ہیں، آج ملک میں معیشت خراب، سیکیورٹی کیصورت حال تشویش ناک، انصاف صرف دولت رکھنےوالوں کومل رہا ہے۔ 400 افراد کے قتل کا ملزم بھی وی آئی پی بن کر عدالت آتا ہے اور وکٹری کا نشان بناتا ہے،18افراد دن کی روشنی میں ماڈل ٹاؤن میں مار گئے، آج تک پتا نہیں چل سکا کہ ان معصوم لوگوں کو کس نے مارا؟ عدالتوں میں پیسوں کا مقابلہ ہوتا ہے جس کے پاس دولت زیادہ، وہ جیت جاتا ہے۔امیر جماعت نےکہا کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں سوائے ناموں کے اور کوئی فرق نہیں، کشمیر پران کا ایجنڈا ایک کہ اسے بھارت کے قبضے میں دے دیاجائے، آئی ایم ایف سے قرض لینے پر ان کا ایجنڈا ایک، ٹرانس جینڈر جیسے گندے قانون پر یہ سب ایک ہیں صرف جماعت اسلامی اپنے نظریے اور اصولی موقف پر قائم رہی۔ سراج الحق نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ آیندہ انتخابات میں جماعت اسلامی کس سے اتحاد کرے گی، ہم کہتے ہیں کہ ہمارا اتحاد عوام کے ساتھ ہو گا اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل، معدنیات سے نوازا ہے۔















