اسلام آباد (اے بی این نیوز )مون سون جاری ہے اور ملک میں ساون کے گھاس کیطرح سیاسی جماعتیں اُگ رہی ہیں،ملک میں جمہوریت کی کھڑی فصل کو 14 جماعتی ٹڈی دَل سے تباہ کرکے سیاست کو جھاڑ جھنکار سے آباد کرنے کی کوشش جاری ہے،میدانِ سیاست میں ان نئی فصلوں کی آبیاری کے چیلنج میں ”محکمہ زراعت“ کے اہلکار شب و روز محنت سے ہلکان ہورہے ہیں،چند ہفتے پہلے لاہور میں بویا جانے والا ”استحکام“ مارکہ بیج گلا سڑا نکلا جو فصل بننے سے پہلے ہی خاک میں مل گیا،خیبرپختونخوا میں ”پارلیمنٹیرین“ نامی بیج بھی عوامی ردّعمل کی پہلی بارش میں ہی بہہ جائے گا،پسِ پردہ سازشوں میں شریک گندے انڈے بےنقاب کرنے اور انہیں تحریک انصاف سے الگ کرنے پر بہرحال ”محکمۂ زراعت“ اور اس کے ”عملے“ کے شکرگزار ہیں،ملکی سیاست طرح طرح کے رنگوں سے نکل کر سیاہ و سفید میں ڈھل چکی ہے، ترجمان پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ”عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی“ اور ”سجدہ خالق کو، ابلیس سے یارانہ بھی“ کا زمانہ بیت چکا ہے،قوم یک زبان، ہم آواز اور یکجا ہوکر پوری یکسوئی سے آئین و قانون کی حکمرانی اور حقیقی آزادی کا پرچم تھامنے والے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔















