اسلام آباد(نیوزڈیسک) صدر مجلس علماء فلسطین شیخ ادیب یاسرجی اور سیکرٹری جنرل عالمی مہم برائے حق واپسی فلسطین شیخ یوسف عباس نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کا اپنے وطن واپس جانے کا حق کوئی نہیں چھین سکتا، اسرائیلی مظالم کے باوجود فلسطینی نوجوانوں کا جذبہ روز بروز بڑھ رہا ہے،پاکستان آنے کا مقصد اپنے حق کیلئے لڑنے والے نہتے فسلطینوں پر اسرائیلی مظالم کو عالمی برادری کے سامنے لانا ہے، دورے کے دوران پاکستان کےسیاسی وسماجی راہنماؤں، علماء کرام، وکلاء سول سوسائٹی اور صحافیوں سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں جو کافی مفید رہیں، پاکستان آکر محسوس ہوا کہ پاکستانی فلسطین سے بہت محبت کرتے ہیں، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر مجلس علماء فلسطین شیخ ادیب یاسرجی، سیکرٹری جنرل عالمی مہم برائے حق واپسی فلسطین شیخ یوسف عباس اورسیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر صابر ابو مریم کا کہنا تھا کہ اپنے ملک واپس جانا تمام فلسطینوں کا حق ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت چھین نہیں سکتی، اس حوالے سےدنیا کے 80 سے زائد ممالک میں مہم چلا رہے ہیں پاکستان کا دورہ اس سلسلے کی کڑی ہے اور اسکے لئے ہمیں عالمی برادری کی حمایت درکار ہے کیونکہ اسرائیلی کے بڑھتے ہوئے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث فلسطینی اس وقت مشکل دور سے گزر رہے ہیں،ہماری مہم کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرانا ہے،اسرائیلی مظالم کے خلاف فلطینوں کا جذبہ قابل دید ہے حال ہی میں غزہ میں انہوں نے دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ فلطینوں کو عالمی برادری کی اخلاقی حمایت کی ضرورت ہے،پاکستان ایک عظیم ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا، علامہ اقبال ہمارے بھی ہیرو ہیں،فلسطین پر اسرائیلی مظالم کیخلاف آواز بلند کرنے کے حوالے سےپاکستان پرعالمی دباؤ سے پوری طرح آگاہ ہیں،پاکستانی اور فلسطینی یک جان دو قالب ہیں،اگر اسرائیل کے ساتھ امریکہ ہے تو ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے اورہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے کیونکہ اس سے ہمارا ایمان مزید مضبوط ہو جاتا ہے،فلسطین کے عوال اور مجاہدین اسرائیل کیخلاف پوری طاقت کیساتھ میدان میں موجود ہیں جنہیں صرف آپکی اور عالمی برادری کی اخلاقی حمایت درکار ہے۔ پاکستانی عوام کو وشل میڈیا پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنا چاہیئے، پریس کانفرنس میں مترجم کے فرائض ایاز عباس نے سرانجام دیئے۔















