اسلام آباد(اے بی این نیوز )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے 14 ماہ کی مختصر مدت میں انتھک محنت سے وزارت اطلاعات و نشریات کی اپنے محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اورمعاشی بحالی کی کوششوں کو سراہا ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس جمعرات کو کمیٹی کی چیئرپرسن رکن قومی اسمبلی جویریہ ظفر آہیر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کی 14 ماہ کی مختصر مدت میں انتھک محنت سے اپنے محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور معاشی بحالی کی کوششوں کو سراہا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بھی شرکت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے تمام ملازمین کو ریگولر کر دیا ہے۔ پی ٹی وی اسلام آباد میں فلم ڈویژن قائم کیا گیا ہے جبکہ وزارت نے پی ٹی وی ورچوئل سٹوڈیو بھی قائم کیا ہے۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کو پی ٹی وی ورچوئل اسٹوڈیو کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ وفاقی وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ پی ٹی وی اکیڈمی کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے اور اس کے کورسز 25 جولائی سے شروع ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ورکنگ جرنلسٹس کے لئے ایک ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس شروع کی گئی ہے، اسی طرح آرٹسٹوں کے لئے بھی ہیلتھ انشورنس کا آغاز کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن میں 12 نئے سٹوڈیوز شروع کئے گئے ہیں اور ریڈیو پاکستان کے تمام آرکائیوز کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ملازمین کو تنخواہوں، الائونسز اور پنشنز کی عدم ادائیگی کے حوالے سے وفاقی سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے پنشنرز کو مسائل کا سامنا تھا، حکومت نے موجودہ بجٹ میں مناسب بجٹ گرانٹ جاری کی ہے جس سے ان کی مالی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ مزید برآں پی بی سی کے ملازمین اور پنشنرز کو تمام بقایا جات بھی ادا کر دیئے ہیں۔ دوران اجلاس کمیٹی کی چیئرپرسن جویریہ ظفر آہیر نے کہا کہ صحافت میں اخلاقیات ایک بہت ضروری عنصر ہے اور واقعات سے متعلق کسی بھی خبر کو درست رپورٹ کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک اچھی پیشرفت ہے کہ پیمرا ایکٹ 2002ءمیں ترامیم کی جا رہی ہیں جس سے پیمرا مزید بااختیار ہوگا۔ انسپکٹر جنرل پولیس آئی سی ٹی اسلام آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس تمام مقدمات میں صحافیوں کو ترجیح دے رہی ہے اور بہت سے مقدمات سی آئی اے کو بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے صحافیوں کے لئے ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جہاں وہ اپنے مسائل کے بارے میں بتا سکتے ہیں جنہیں فوری طور پر حل کیا جائے گا۔ بعد ازاں کمیٹی نے حکومتی بل ”دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز (ترمیمی) بل 2023“، ”دی پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اور بک رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2023“ پر غور کیا اور معمولی ترامیم کے ساتھ انہیں منظور کرلیا۔ کمیٹی نے مزید قانون سازی موخر کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں اس پر غور کرنے کا فیصلہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے علاوہ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان/اراکین قومی اسمبلی محترمہ زیب جعفر، کرن عمران ڈار، ذوالفقار علی بیہن، محترمہ ناز بلوچ، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، ناصر خان موسیٰ زئی اور محترمہ آسیہ عظیم، بلوں کے محرکین اراکین قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی اور محمد جمال الدین نے شرکت کی۔ وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت داخلہ کے سینئر افسران، اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے، پیمرا، پی بی سی، پی آئی ڈی کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔















