اسلام آباد(اے بی این نیوز) وزیر توانائی اور رہنما مسلم لیگ (ن) خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پارلیمان اپنی پاکستان کے آئینی بندوبست میں درست اہمیت کی جانب قدم اٹھا رہی ہے، عدلیہ کا اپنا مقام ہے، انتظامیہ کا اپنا قانون ہے جب کہ ان سب میں پارلیمان کا عوام سے رشتہ جڑا ہوا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ توہین عدالت کی بات کرنا قبل ازوقت ہے، یہ معاملہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے درمیان ہے، الیکشن کمیشن پر انتخابات کرانے کی بھاری ذمہ داری ہے، آئین کے آرٹیکل 224 کی ایک شق 90 روز کا ذکر ہے لیکن وہ آرٹیکل پورا پڑھیں گے تو اس میں دیگر مسائل بھی درج ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے وزارت دفاع،خزانہ کےمؤقف کی توثیق کی، کابینہ نے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا، ہم اپنا مؤقف سپریم کورٹ میں پیش کردیں گے۔شہباز شریف پر توہین عدالت لگنے سے متعلق خرم دستگیر نے کہا کہ توہین عدالت کا الزام عائد کرنا غلط ہوگا، یہ معاملہ الیکشن کمیشن سے ہو کر کابینہ اور وزیراعظم تک جاتا ہے، ہم نے پوری ذمہ داری کے ساتھ حقائق کو دیکھ کر فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ اللہ کے بعد پاکستان کا اقتدار اعلیٰ ججز کے نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہوگا یا کسی ادارے کے ہاتھ میں ہوگا، البتہ اگر توہین عدالت لگنی ہے تو وہ عمران خان پر لگنی چاہئے کیونکہ اسی سپریم کورٹ نے 2021 میں کہا تھا کہ پنجاب کے بدلیاتی الیکشن توڑنے کا فیصلہ غیر آئینی تھا۔















