اہم خبریں

صوبائی محکمہ صحت نے قلیل وسائل کے باوجود تپ دق کی روک تھام کیلئے ترجیحی بنیادوں پر بھرپوراقدامات کررہی ہے ،نگران وزیراعلیٰ

پشاور( اے بی این نیوز )صوبائی محکمہ صحت نے قلیل وسائل کے باوجود تپ دق کی روک تھام کے لیے ترجیچی بنیادوں پر بھرپوراقدامات کررہی ہے ،خیبرپختون خوا کے عوام کو ٹی بی مریضوں کو مفت ادویات اورمفت ایکسرے اورٹیسٹ کی سہولیات دی جارہی ہے ،نگران وزیراعلیٰ کے ہیلتھ ایڈوائزرڈاکٹر عابد جمیل کا ٹی بی عالمی دن کے حوالے سے خیبرمیڈیکل یونیورسٹی حیات آباد کے ہال میں منعقدہ ٹی بی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا ،ٹی بی عالمی دن کے سمینار کااہتمام ٹی بی کنٹرول پروگرام خیبرپختون خوا کے پراجیکٹ ڈائریکٹرمدثر شہزاد نے کیا تھا۔ٹی بی عالمی دن کے سیمینارسے سکرٹری ہیلتھ عطائ الرحمان ،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شوکت علی ،خیبرمیڈیکل یونیورسٹی حیات آباد کے وائس چانسلرڈاکٹر ضیائ الحق ،ڈبلیوایچ اورکے نمائندے ڈاکٹر بابر عالم اوردیگر ماہرین طب اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام ،ڈاکٹر راورزندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ٹی بی کنٹرول پروگرام خیبرپختون خوا کے پراجیکٹ ڈائریکٹرڈاکٹر مدثر شہزاد نے تپ دق کے مریضوں کی روک تھام کے حوالے سے سیمنار میں سالانہ رپورٹ پیش کی، پورے خیبرپختون خوا کے ہرضلع اورتحصیل لیول تک ٹی بی کا عالمی دن پورے جوش وخروش سے منایاجارہاہے ، اورعوام میں ٹی بی کے مریضوں کے بارے میں بھرپوراگاہی مہم چلائی جارہی ہے ،پاکساتن میں ہرسال پانچ لاکھ پچاس ہزار سے لے کر سات لاکھ لوگ ٹی بی سے متاثرہوتے ہیں خیبرپختون خوا میں ہرسال تقریباً نوے ہزارلوگوں کو ٹی بی ہوتی ہے ،ٹی بی مے مریضوں میں تقریباً ادھے مریضوں کی تشخیص مختلف وجوہات کی وجہ سے نہیں ہوتی ہے دویادو ہفتوں سے زیادہ کھانسی ہلکا بخا رات کو پسینہ آنا بھوک کا نہ لگنا وزن میں کمی اس بیماری کی علامات ہیں اگر کسی میں یہ علامات ظاہرہو تو اس صورت ہماری تشخیص کے لیے بلغم کامفت معائنہ سرکاری یاپرائیوٹ لیبارٹری سے کروائیں،اپنا معائنہ ٹی بی کے مستند ڈاکٹر سے کروائیں،ٹی بی پروگرام سالانہ پینتالیس ہزارسے لے کر پچاس ہزار مریضوں کو رجسٹر کرتاہے اوراب تک ٹی بی کنٹرول پروگرام نے سات لاکھ سے زیادہ مریضوں کاعلاج کیاہے ،پراجیکٹ ڈائریکٹرڈاکٹر مدثر شہزاد نے کہاکہ ٹی بی سے بچا? کے لیے ایک نئی مہم شروع کی جارہی ہے جس سے ٹی بی پیرونٹوتھراپی کہتے ہیں تاکہ صحت مند لوگ محفوظ ہوجائیں ،جدید ایکسرے مشین سے لیس موبائل گاڑیاں بھی صوبے بھر کے دورافتادہ علاقوں میں لوگوں کے گھر کے دہلیزتک پہنچے گی تاکہ مریضوں کی بروقت تشخیص اورعلاج ممکن ہو،اوراگر ٹی بی کے مریض کی تشخیص کی صورت میں مسلسل چھ ماہ تک بلاناغہ علاج کرواکر ٹی سے مکمل نجات پاسکتاہے ،اس سال تپ دق کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ صحت اس عزم کااظہارکرتاہے کہ پاکستان اورخیبرپختون خوا سے ٹی بی سے پاک صوبہ بنائیں،اس مقصد کے لیے آئیے ہم سب بحیثیت قوم مل کر ٹی بی کے خاتمے کے لیے ہرسطح پر جدوجہد کرے ،تاکہ لوگوں کی زندگی کو بچایاجاسکے۔صوبائی حکومت کے عزم اورجدوجہد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ صوبائی حکومت نے تپ دق کی روک تھام کے حوالے سے عالمی اہداف کے حصول کاعہد کیاہے ،خیبرپختون خوا میں مزاحمتی ٹی بی ایک بڑے خطرے کے طورپر ابھر رہی ہے ،جین ایکسپرٹ مشین کے ذریعے مزاحمتی ٹی بی کی تشخیص ممکن ہے جو کہ تمام بڑے ہسپتالوں میں لگائی جاچکی ہے ،،ٹی بی کے مراکزصحت میں ادویات کی فراہمی ،تربیت یافتہ اورحوصلہ مند افرادی قوت کی موجودگی قابل تحسین ہے مگر ہماری کاوشوں کاتسلسل ہی ہماری معیاری خدمات کی ضامن ہے۔

متعلقہ خبریں