اسلام آباد ( اے بی این نیوز )قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے نومنتخب رکن اسمبلی ندیم خان اورکزئی نے حلف اٹھا لیا، مجموعہ ضابطہ دیوانی(ترمیمی)بل2023قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیاجبکہ قومی اسمبلی کے ارکان نے بلوچستان میں خاتون اور ان کی دو بچیوں کے قتل کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے عبد الاکبر چترالی ،ڈاکٹر شہناز بلوچ ،سید محمود شاہ ،سائرہ بانو ،نصیبہ چنا ، محمد ابوبکراور ناز بلوچ نے بلوچستان میں ہونیوالے اندوہناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دو بچوں سمیت خاتون کو قتل کر دیا گیا، 5 بچیاں ایک صوبائی وزیرکی نجی جیل میں بند ہیں، صوبائی وزیر اس میں ملوث ہیں،اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئے اورملزمان کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں محرومیاں پہلے سے ہیں مگر اب بربریت شروع ہو گئی ہے۔ بلوچستان کا واقعہ ظاہرکر رہا ہے کہ 75 سال آزادی کے بعد بھی ہماری سوچ پرانی ہے۔لوگوں نے اب نجی جیلیں قائم کی ہیں، پاکستان کو بدنامی سے بچانے کیلئے احسن اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔ رمیش کمار وینکوانی نے قومی معیشت کے استحکام کیلئے متفقہ سیاسی لائحہ عمل بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیلئے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے۔ رکن قومی اسمبلی مہناز اکبر عزیز نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں جسمانی سزائوں کے تدارک کے قانون پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی محمد جمال الدین نے کامسیٹس یونیورسٹی کے متنازعہ امتحانی پرچہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔ شائستہ پرویز ملک نے کہا گومل یونیورسٹی کے حوالہ سے ایک نوٹیفیکیشن سامنے آیا جس میں لکھا ہوا ہے کہ یونیورسٹیوں کی بچیوں کوکلاس روم تک محدود کرنے کے معاملے پر آواز اٹھائی۔قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ دن گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔















