ایران اور امریکا ( iran america)کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی میں مزید دو ہفتوں کی توسیع پر ابتدائی اتفاق کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق دونوں فریق جلد دوبارہ مذاکراتی میز پر واپس آنے کے لیے تیار ہیں، تاہم بعض اہم نکات پر اب بھی اختلافات برقرار ہیں۔ ان مذاکرات میں بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے حساس معاملات زیر غور ہیں۔
امریکہ کاوفد اڈیالہ جیل پہنچ گیا،اہم ملاقات،جا نئے تفصیلات
سفارتی ذرائع کے مطابق ثالثی کرنے والے فریقین ان تین بڑے امور پر معاہدہ کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور آئندہ تمام مذاکرات مکمل جنگ بندی کے مقصد کے لیے ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ رابطے گزشتہ اتوار سے مسلسل جاری ہیں اور پاکستانی ثالثی کے ذریعے اہم سفارتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ممکن ہے ایران جلد ایک پاکستانی وفد کی میزبانی کرے، جو جاری مذاکراتی عمل کا حصہ ہوگا۔ ان مذاکرات میں جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔















