اسلام آباد(اے بی این نیوز)پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)کے درمیان ٹیکنیکل سطح کے مذاکرات میں پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے اور سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے سمیت کئی پہلووں پر غور کیا گیا۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے ٹیکنیکل سطح کے مذاکرات چوتھے روز اختتام پذیر ہو گئے ،مذاکرات کے خدو خال تیارکرلئے گئے ہیں جس پر پالیسی سطح کے مذاکرات میں مزید غور ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں بجٹ خسارہ کم کرنے کی تجاویز پر غورکیا گیا، حکومت نے بجٹ میں 611 ارب روپے اخراجات کی کمی کی تجویز آئی ایم ایف دی گئی۔اس کے علاوہ مختلف سیکٹر میں سبسڈیز ختم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا، ٹیکنیکل سطح کی مزاکرات میں پیٹرول پر سیلز ٹیکس اور لیوی بڑھانے پر غور کیا گیا جبکہ آئی ایم ایف نے ڈیزل پر بھی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں بیرونی ادائیگیوں کے دبائو کو کم کرنے کے لے مختلف تجاویز پرغور سمیت آئی ایم ایف کو سبسڈیز کم کرنے کاپلان دے دیا گیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سیلز ٹیکس کی شرح 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز اور سیلز ٹیکس کی 110 ارب روہے تک کی رعایتیں ختم ہونے کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شرائط ماننے پر پیٹرول، ڈیزل ، بجلی مزید مہنگی ہوسکتی ہے تاہم تمام مشکل تجاویزپر حتمی فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔















