اسلام آباد( اے بی این نیوز ) وزیر مملکت برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نوابزادہ افتخار احمد خان بابر نے کہا ہے کہ مسلہ کشمیر کے حل کے لیے تسلسل کے ساتھ ایک پالیسی پر عمل پیرا ہونا وقت کی اشد ضرورت ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آبادمیں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر محض ایک دن کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے دل ہر وقت اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کے والد مرحوم نوابزادہ نصر اللہ خان 05 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کے حوالے سے کاوشوں کا حصہ رہے اور بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی انہوں نے مسلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے لازوال خدمات سرانجام دیں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان کی تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی سمجھ کے حوالے سے کام کیا اور ان کوششوں میں کسی بھی حکومت کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی امتیاز حاصل ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر کا حل کی کوششیں پیپلزپارٹی کے بنیادی آئین میں شامل ہے، نوابزادہ افتخار احمد نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لیے ہزار سال تک جنگ لڑنے کا عزم کیا تھا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے اس عزم اور میراث کو بے نظیر اور بلاول بھٹو زرداری نے آگے بڑھایا ہے، انہوں نے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ایک المناک مثال بن چکا ہے، 1989 سے لے کر آج تک تقریبا ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ہے لیکن بھارت تمام تر ریاستی دہشت گری کے باوجود کشمیریوں کے عزم کو شکست دینے میں ناکام ہو چکا ہے اور بہادر کشمیری 9 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سبز ہلالی پرچم میں کشمیری شہدا کا سپرد خاک ہونا ان کی پاکستان سے وابستگی کا واضح ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے غیر قانونی اقدامات سے کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، وزیر مملکت نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر ریاستی کشمیریوں کو 44 لاکھ ڈومیسائل ایشو کر چکا ہیاور نئے غیر قانونی قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی زمین ضبط اور غیر کشمیریوں کو الاٹ کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل طرز پالیسیز پر عمل پیرا ہے انہوں نے کہا کہ بھارت ایک جانب مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کر رہا ہے تو دوسری جانب بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت شہید کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسی کے نفاز کا واضح ثبوت ہیں جن کو بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کی کانفرنس میں بے نقاب کیا انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں بھارت کو ایک ہندوانتہائپسند ریاست کے طور پر جانا جاتاہے انہوں نے کہا کہ آج بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں پر بھارت کی زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ نوابزادہ افتخار احمد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر انسانی حقوق، قانونی اور سکیورٹی کے پہلوو¿ں کے حوالے سے انتہائی اہم ہے اور دنیا انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے حساسیت رکھتی ہے انہوں نے زور دیا کہ ہمیں کشمیریوں پر مظالم کی روک تھام کے لیے اپنی پالیسیوں میں یکسوئی لانی ہوگی اور اختلافات کو پس پشت رکھ کر ہمیں مسئلہ کشمیر معیشت اور دہشت گردی جیسے اشوز پر اکٹھا ہونا ہو گ















