اہم خبریں

ای سی او ویژن 2025 پر پیش رفت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد( نیوز ڈیسک  )وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ای سی او رکن ممالک کے درمیان رابطے، تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، ای سی او ویژن 2025 کے حوالے سے اپنی پیش رفت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، رکن ممالک موجودہ عالمی اقتصادی بحران کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں کو مربوط کریں، تمام ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پاکستان میں گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے منگل کو ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 26 ویں وزارتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خطے کی بہتری کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو معاشی، موسمیاتی تبدیلی اور اسلاموفوبیاجیسے مسائل درپیش ہیں، اب اٹھائے جانے والے اقدامات ہمارے مستقبل کو طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے، ہمیں خطے کی بہتری کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا ہے،2022 میں پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے پاکستان کا 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، سیلاب سے 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، لاکھوں گھر اور ہزاروں ایکڑ پرکھڑی فصلیں متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین اور معیشت کی بحالی اولین ترجیع ہے، دنیا بھر میں کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔انہوں نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ کو وزراتی کونسل کی صدارت سنبھالنے پرمبارکباد پیش کی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ای سی او کو خطے میں ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے جو رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرتا ہے، یہ رکن ممالک کے درمیان رابطے، تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قیام کے بعد سے ای سی او نے مسلسل ترقی کی ہے اور آج اس تنظیم کو تعاون کے ٹھوس فریم ورک، مستقبل کے حوالے سے ایجنڈے اور بڑھتی ہوئی سرگرمیوں افق پر فخر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے 1500 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں 400 بچے بھی شامل ہیں جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 33 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے جہنیں صحت اور کہیں زیادہ بھوک کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے دس لاکھ گھر تباہ اور ایک ملین سے زیادہ پالتوجانور ہلاک ہوئے، چار ملین ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں ، چھ ماہ گزرنے کے باوجود ملک کا بڑا حصہ زیر آب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی او کا خطہ 8 ملین مربع کلومیٹر اور نصف ارب آبادی پر مشتمل ہے جو دنیا کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد ہے تاہم اس کا عالمی تجارت میں حصہ صرف 2.2 فیصد ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری انٹرا ریجنل ٹریڈ خطے کی مجموعی تجارت کا 8 فیصد سے بھی کم ہے جو یورپی یونین کے برعکس ہے جہاں انٹرا ریجنل ٹریڈ 70 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی او تجارتی معاہدہ ایک تاریخی ترجیحی تجارتی انتظام ہے جس کا مقصد ایک طے شدہ ٹائم فریم پر خطے میں ٹیرف کو کم کرنا ہے۔ پاکستان اس کے جلد نفاذ کو بہت اہمیت دیتا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ای سی او تجارتی معاہدہ ٹیرف کی رعایتیں جلد لاگو ہوں گی۔ پاکستان ای سی او فریم ورک کے تحت تجارت کے فروغ اور سہولت کاری کو اعلیٰ ترجیح دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ای سی او ویژن 2025 ایک اہم دستاویز ہے جو اسلام آباد میں 13ویں ای سی او سربراہ اجلاس کے دوران اپنایا گیا جو بین العلاقائی تجارت کو بڑھانے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے، ہمیں ای سی او ویژن 2025 کے حوالے سے اپنی پیش رفت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک اور ریل کے منصوبوں کی ترقی، ویزا کے نظام کو آزاد اور سرحدی طریقہ کار کو آسان بنانے کے ذریعے رابطے سے نہ صرف توانائی کی ہماری بین الاعلاقائی ضروریات کو پورا کیا جائے گا بلکہ علاقائی تجارت میں اضافہ ہوگا، یہ ہمیں ایک پل کے طور پر کام کرنے اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے قابل بنائے گا۔

متعلقہ خبریں