اہم خبریں

جنرل (ر) فیض کا نام غلطی سے میری زبان پر آگیا، فضل الرحمان

اسلام آباد(نیوزڈیسک)جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ گزشتہ روز جنرل ریٹائر فیض حمید کا نام غلطی سے میری زبان پر آگیا ،

جمعہ کو اپنے ایک انٹرویو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ باجوا ریٹائرڈ جنرل فیض کو 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار سمجھتا ہوں،

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو زیادہ زیر بحث لانے کی بجائے تاریخ کے حوالے کیا جائے میں نے ساری بات بتا دی ہے اتنا کافی ہے ہم پی ٹی ائی حکومت کو تحریک کے ذریعے ہٹانا چاہتے تھے،

پی ڈی ایم پیپلز پارٹی اے این پی کی روزانہ میٹنگ ہوتی رہتی ہیں مجھ سے اکیلے میں جنرل باجو کی بہت ملاقاتیں ہوئی ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ کے پی سمیت کہیں بھی شفاف انتخابات نہیں ہوئے ،اختلافات کے باوجود پی ٹی ائی کا وفد ملاقات کر کے گیا ،پی ٹی وفد نے مثبت بات کہہ دی ہے وفد سے کہا کہ اپ کی مہربانی اپ ائیں لیکن دھاندلی ضرور ہوئی ہے ان سے کہا آپ کہتے ہیں دھاندلی بھی ہوئی ہے ،ہم کہتے ہیں دھاندلی بھی آپ کے لیے ہوئی ہے،

مزیدپڑھیں:ن لیگ کا وفاق میں حکومت نہ بنانے پر غور

فضل الرحمن نے یہ بھی کہا پی ٹی آئی وفد سے خوشگوار انداز میں بات ہوئی، معاملات کیسے طے ہوں گے، آگے دیکھتے ہیں، کیا صورتحال ہوتی ہے ،مذاکرات اگے چلتے ہیں اور تحویل ہو جاتے ہیں تو کوئی بری بات نہیں مجھ سے اکیلے میں جنرل باجوا کی بہت ملاقاتیں ہوئی ہیں،

انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی ناراضگی کو مقاصد پر ترجیح نہیں دوں گا ،اختلافات ختم ہو جاتے ہیں تو عفو و درگزر سے کام لیں گے، اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں ،ذاتی نہیں پارٹی کی سطح پر ہیں، میرا کارکن سوچتا ہے فضل الرحمن کا نام لے کر گالی دی گئی ہے، تو مجھے دی گئی ہے یہ احساسات ہر سطح پر موجود ہے ہمیں ان کو بھی سامنے رکھنا ہے۔

متعلقہ خبریں