اسلام آباد(نیوزڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کی تنظیم نو پر سوالات اٹھا دیے اور سینیٹرز نے نگران حکومت کی قانون سازی کو مینڈیٹ سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کوئی قانون سازی نہیں کر سکتی۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں ہوا۔چیئرمین ایف بی آر ملک زبیر ٹوانہ نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ ایس آئی ایف نے ایف بی آر کی ری اسٹرکچرنگ کی منظوری دی ہے، زبیر ٹوانہ نے کہا کہ ٹیکس قوانین میں ایک ہزار ترامیم کی جائیں گی، وزارت قانون اس بارے میں اپنی رائے دے گا، کچھ قوانین نئے بنیں گے، کہاں ترامیم کی جائیں گی ایف بی آر اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا،سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ نگران حکومت کوئی قانون سازی نہیں کر سکتی۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کا کام روزمرہ امور سرانجام دینا ہے۔چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں وزیر قانون پیش ہوکرسارامعاملہ بتائیں، نگران حکومت قانون سازی نہیں کر سکتی۔کمیٹی نے ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن ترمیمی بل 2024 مؤخر کردیا۔















